بھارتی ریاست راجستھان میں پہلی مرتبہ انڈوں کی فروخت پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ، جو ہندو اور جین مذہبی تہواروں کے احترام میں کی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پابندی ہندو مذہبی تقریبات پریوشن ، سموتسری اور اننت چتردشی کے دوران لگائی گئی ۔ روایتی طور پر ان تہواروں کے موقع پر گوشت اور مچھلی کی دکانیں بند رہتی تھیں، تاہم اس سال پہلی مرتبہ انڈے فروخت کرنے والی دکانوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
راجستھان کی مقامی انتظامیہ نے اس حوالے سے 26 اگست کو ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا، جس کے مطابق 28 اگست اور 6 ستمبر کو ریاست بھر میں تمام *نان ویج* (گوشت، مچھلی اور انڈے) کی دکانیں بند رہیں گی، خواہ وہ ذبح خانے ہوں یا چھوٹے فوڈ اسٹالز۔
اس اقدام کے پیچھے مذہبی تنظیموں کا دباؤ بھی کارفرما ہے، جو برسوں سے ان تہواروں کے دوران “اہنسا” (عدم تشدد) کے اصول پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس سال حکومت نے ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے انڈوں کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
واضح رہے کہ جین مت میں انڈوں کو بھی ایک زندہ مخلوق کے امکان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ فرٹیلائزڈ نہ ہوں۔ اسی نظریے کے تحت انڈوں کا استعمال بھی تشدد کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
بلدیاتی اداروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ مذہبی تہواروں کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ راجستھان جیسے کثیرالمذاہب اور ثقافتی ریاست میں خوراک سے متعلق ایک نئی حد مقرر کی گئی ہے، جس پر عوامی و سیاسی سطح پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
انڈوں کی فروخت پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی








