یاض (نیوز ڈیسک) 2025 کی پہلی ششماہی میں سعودی عرب کی رہائشی جائیداد کی مارکیٹ میں لین دین کی مالیت 123.8 ارب ریال تک پہنچ گئی جن میں سے 77.5 ارب ریال رہائشی گھروں کی خرید و فروخت پر مشتمل ہیں۔ مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں رہائشی ڈیلز کی مالیت 49 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب ریال تک جا پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجوہات آسان مارگیج سہولتیں، سرکاری اسکیمیں اور نئے گھروں کی فراہمی ہیں۔ سعودی حکومت 2026 میں نیا قانون نافذ کرے گی جس کے تحت غیر ملکی افراد کو جائیداد خریدنے کی اجازت ملے گی۔ ماہرین کے خیال میں یہ اقدام غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کرے گا، خاص طور پر مسلم ممالک کے سرمایہ کاروں کی جانب سے۔
ریاض میں بھی جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری سہ ماہی 2025 میں اپارٹمنٹس کی اوسط قیمت 10.6 فیصد بڑھ کر 6,175 ریال فی مربع میٹر تک پہنچ گئی۔ جدید رہائشی سہولیات اور ریاض میٹرو کا آغاز بھی طلب میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیا قانون مارکیٹ میں نئی جان ڈالے گا اور سعودی عرب کو ایک پائیدار اور متنوع جائیداد کی معیشت کی طرف لے جائے گا









