بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی بالادستی چیلنج چینی صدر نے نیا ورلڈ آرڈر پیش کردیا

تیانجن (نیوز ڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک نئے عالمی سلامتی اور معاشی نظام کا تصور پیش کیا ہے جو خاص طور پر گلوبل ساؤتھ ممالک کو مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ اعلان پیر کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک تھے۔

امریکا کے خلاف پیغام

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی کا یہ اقدام امریکا کے اثر و رسوخ کے لیے ایک براہِ راست چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا ایک نئے موڑ پر ہے جہاں بالادستی اور طاقت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کے مطابق مستقبل کا عالمی نظام یورپ یا اٹلانٹک طرز کا نہیں ہوگا بلکہ توازن اور حقیقی کثیرالجہتی پر مبنی ہوگا۔

روس اور بھارت کی موجودگی

اس اجلاس میں روسی صدر پوٹن اور بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودگی نے اس پلیٹ فارم کو مزید وزن بخشا۔ ایک علامتی منظر میں تینوں رہنما ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے دیکھے گئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاہے یہ منظر طے شدہ ہو یا فطری، اس نے امریکا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ چین، روس اور بھارت دباؤ میں آنے والے نہیں۔

مودی اور پوٹن کی قربت

اجلاس کے بعد مودی اور پوٹن نے ایک ساتھ روسی بکتر بند گاڑی Aurus میں سفر کیا اور دو طرفہ ملاقات بھی کی۔ مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پوٹن کے ساتھ گفتگو ہمیشہ بصیرت افروز ہوتی ہے، جبکہ پوٹن نے مودی کو روسی زبان میں محترم وزیراعظم، عزیز دوست کہہ کر مخاطب کیا۔

شمالی کوریا اور فوجی پریڈ

بدھ کو ہونے والی پریڈ میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی شرکت بھی متوقع ہے جہاں جدید فوجی ساز و سامان کی نمائش ہوگی۔

چین بھارت تعلقات

اس دوران بیجنگ نے بھارت کو قریب لانے کی بھی کوشش کی۔ شی اور مودی کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین اور بھارت حریف نہیں بلکہ ترقی کے شراکت دار ہیں۔

پس منظر

ماہرین کے مطابق صدر شی جن پنگ کا خطاب امریکا کے سابق صدر ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں پر بالواسطہ تنقید بھی تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا سمجھتا ہے کہ تجارتی دباؤ سے وہ چین، بھارت یا روس کو پیچھے ہٹا سکتا ہے تو یہ اجلاس اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔