مرکز قومی بچت کا آئی ٹی سسٹم تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا، جس کے باعث ملک بھر کے لاکھوں صارفین کو شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا ہے۔
61 ارب روپے کی ادائیگیاں رُک گئیں
نظام میں خرابی کی وجہ سے تقریباً 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری، منافع اور ادائیگیوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ متاثرہ صارفین میں ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس، اسپیشل سیونگز، بہبود سیونگز اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس کے حامل افراد شامل ہیں۔
برانچز پر رش، صارفین بے حال
ملک بھر کی نیشنل سیونگز برانچز پر صارفین کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بیشتر صارفین اپنی ماہانہ ادائیگیوں، منافع یا رقوم کی منتقلی کے لیے آئے لیکن سسٹم ڈاؤن ہونے کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔ ادارے کے ملازمین بھی صارفین کے سوالات اور غصے کا سامنا کر رہے ہیں۔
خرابی 25 اگست کو ہوئی، تاحال برقرار
سسٹم میں خرابی 25 اگست کو پیدا ہوئی تھی، اور اب تک اس کا مکمل حل ممکن نہیں ہو سکا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بحالی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے ادارے کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
ماہرین کا انتباہ: سسٹم اپ گریڈ کریں
آئی ٹی ماہرین نے سسٹم میں جدید اپ گریڈیشن، ریڈنڈنسی اور بیک اپ انفراسٹرکچر کو ناگزیر قرار دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ متحرک
وزارت خزانہ نے سسٹم کی جلد بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم صارفین تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور سسٹم کی مکمل بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔








