بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

   جوڈیشل کانفرنس میں عوامی سطح پرسوالات کے جواب دیں، جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو اہم خط

 

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک اہم اور دوٹوک خط لکھا ہے جس میں عدلیہ کے اندرونی فیصلوں اور پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ خط آئندہ 8 ستمبر کو ہونے والی جوڈیشل کانفرنس کے تناظر میں لکھا گیا ہے، جس میں عوامی سطح پر عدالتی معاملات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
خط کے اہم نکات:
جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں لکھا کہ بطور سینئر ترین جج، عدلیہ کے وقار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ سوالات اٹھانا میری ذمہ داری ہے۔ میں نے اس سے قبل بھی متعدد بار خط لکھے، لیکن نہ کوئی تحریری اور نہ ہی زبانی جواب موصول ہوا۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس اب تک کیوں نہیں بلایا گیا؟
سپریم کورٹ رولز کی منظوری فل کورٹ اجلاس کی بجائے سرکولیشن کے ذریعے کیوں دی گئی؟
اختلافی نوٹ جاری کرنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی پر صرف انفرادی مشاورت کیوں کی گئی؟
ججز کی چھٹیوں پر جنرل آرڈر جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
26ویں آئینی ترمیم سے متعلق درخواستوں پر اصل فل کورٹ کیوں نہیں بنایا گیا؟
جسٹس منصور علی شاہ کا مؤقف:
انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا کہ پ عدلیہ کو خودمختار ادارہ بنانے کی بجائے ججز کو کنٹرولڈ فورس کے طور پر سامنے لا رہے ہیں، جو عدالتی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔”
جسٹس منصور نے اُمید ظاہر کی کہ نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان ان سوالات کے واضح اور تفصیلی جوابات دیں گے تاکہ عدلیہ کے وقار، شفافیت اور خودمختاری کو تقویت دی جا سکے۔