امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ سمیت دنیا میں سات جنگیں رکوا دی ہیں۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ میں نے دنیا بھر میں سات جنگوں کو روکا — ان ممالک کے سربراہان سے براہِ راست بات کر کے۔ لیکن ان کوششوں میں اقوام متحدہ کا کوئی عملی کردار نہیں تھا۔”
اقوام متحدہ پر تنقید
صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا میں سوچتا ہوں کہ آخر اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ یہ ادارہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، مگر ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ انہیں اقوام متحدہ سے مطلوبہ تعاون اور فعالیت نہیں ملی۔
فلسطین اور غزہ کے حالات پر تبصرہ
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور کہا غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ انسانی جانیں بچانا سب سے اہم ہے۔
امریکہ میں سنہری دور چل رہا ہے
اندرونِ ملک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اپنی سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پچھلی انتظامیہ نے امریکہ کو شدید مسائل میں دھکیلا، مگر اب ہم ایک سنہری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کا کام تھا مگر افسوس ہے کہ مجھے یہ کرنا پڑا۔ یو این نے جنگیں رکوانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ کئی ممالک نے تو اس کے فون تک نہیں اٹھائے۔ جب جنگیں نہ رکوا سکے تو یو این کا کیا فائدہ؟ کھوکھلے الفاظ جنگیں نہیں روکتے۔ دنیا میں لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ’ٹرمپ کو نوبیل انعام دیا جانا چاہیے‘۔
صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ میں امریکا میں غیر قانونی افراد کی آمد ”صفر“ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ”مجنون اور ڈرگ ڈیلرز لاکھوں کی تعداد میں امریکا میں داخل ہوئے“۔
امریکی صدر نے کہا کہ ”ایک سال قبل ہم دنیا کے لیے مذاق بن چکے تھے لیکن آج سعودی عرب، قطر اور یو اے ای امریکا کے قریب آ گئے ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے سات جنگیں ختم کرائیں اور پاکستان، بھارت اور ایران کی مدد سے اسرائیل کی جنگ رکوا دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نے جنگیں روک کر لاکھوں جانیں بچائیں، ایران دنیا کا نمبر ون دہشت گرد اسپانسر ہے، میری یہی اپروچ تھی کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، آج ایران کے تقریبا تمام ملٹری کمانڈرز ختم ہوچکے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے بمبار نے ایرانی نیوکلیئر تنصیبات کو مٹا دیا، ہم نے وہ کیا کہ جس کی لوگ سالوں سے خواہش کررہے تھے، حماس نے امن کی تجاویز کو مسترد کیا، کچھ لوگوں نے فلسطین کو تسلیم کیا، حماس سے کہتا ہوں اب یرغمالیوں کر رہا کرو، بس رہا کرو، ہمیں غزہ میں جنگ رکوانی ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں یرغمالیوں کو رہا کروانا ہے، ہمیں 2 اور 4 نہیں تمام یرغمالیوں کی رہائی چاہئے، میں سمجھتا تھا کہ روس، یوکرین جنگ رکوانا سب سے آسان ہوگا۔ روس یوکرین جنگ کے ذمہ دار چین اور بھارت ہیں، حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری روکنا ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ امریکا کا سنہری دور ہے، امریکا کی معیشت اورسرحدیں مضبوط ہیں، پچھلی انتظامیہ نے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا، امریکا میں مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، 20 دن میں واشنگٹن ڈی سی کو پرامن بنادیا، اب ہمیں کسی بکتر بند گاڑی میں ریسٹورنٹ جانا نہیں پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی پربھی تنقید کرتے ہوئے کہا گلوبل وارمنگ سب کو مار دے گی، ٹرمپ نے گرین انرجنسی منصوبے کو دھوکا قرار دیا۔









