اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنے مؤقف میں حیران کن تبدیلی کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کر دی ہے، حالانکہ کچھ ہی گھنٹے قبل وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے سے اتفاق کا اظہار کر چکے تھے۔
نیتن یاہو حالیہ دنوں میں امریکی دورے پر واشنگٹن پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کے مجوزہ منصوبے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کی امید دلائی اور اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ منصوبے پر پیش رفت ضروری ہے۔
تاہم، وطن واپسی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف میں یکسر تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح الفاظ میں کہا کہ اُنہوں نے صدر ٹرمپ سے فلسطینی ریاست کے قیام پر کوئی اتفاق نہیں کیا، اور نہ ہی یہ شق امن منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرے گا بلکہ اسرائیلی فوج غزہ کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔
اس اچانک اور واضح یوٹرن نے نہ صرف عالمی مبصرین بلکہ امریکی قیادت کو بھی حیران کر دیا ہے۔ ماہرین اس تبدیلی کو نیتن یاہو کی “دوہری حکمت عملی” قرار دے رہے ہیں، جس کے مطابق وہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت امن منصوبے کی حمایت کا تاثر دیتے ہیں، لیکن ملکی سیاست اور شدت پسند حلقوں کو خوش کرنے کے لیے سخت گیر مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ اسرائیلی قیادت تاحال فلسطینی ریاست کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، چاہے عالمی برادری کتنا ہی دباؤ ڈالے یا مسلم دنیا کتنی ہی حمایت فراہم کرے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے بقول اس امن منصوبے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر جیسے اہم مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہو گئی ہے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ اب بھی طویل، کٹھن اور پیچیدہ ہے، اور حقیقی تبدیلی کے لیے محض منصوبے نہیں، بلکہ نیت، عزم اور یکساں اخلاقی معیار کی ضرورت ہے۔









