بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی عسکری قیادت نے ایک بار پھر اشتعال انگیز مہم شروع کر دی، آئی آیس پی آر

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ ’معرکۂ حق‘ کو گزرے پانچ ماہ ہو چکے ہیں، مگر بھارت اپنے بےبنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے سے باز نہیں آیا۔ ترجمان کے مطابق بھارتی عسکری قیادت نے ایک بار پھر اشتعال انگیز مہم شروع کر دی ہے، جس کا مقصد بہار اور مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارت ماضی کی طرح الیکشن سے پہلے پاکستان مخالف بیانیہ چلا رہا ہے اور فوجی قیادت کی طرف سے دیے جانے والے غیرذمہ دارانہ بیانات سیاسی دباؤ کے تحت افسوسناک نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور امن چاہتا ہے، مگر دشمن کے جھوٹے بیانیے کا ہر سطح پر جواب دیا جائے گا تاکہ حقائق کو صحیح تناظر میں عوام تک پہنچایا جا سکے اور پروپیگینڈا بےنقاب ہو۔

دوسری جانب بھارتی عسکری کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے پاس ہندوستان سے براہِ راست لڑائی کی صلاحیت نہیں، مگر پاکستان ’پہلگام‘ جیسا ایک اور حملہ کر سکتا ہے اور پھر اُن کے بقول جواب میں ”آپریشن سندور“ کا اگلا مرحلہ زیادہ مہلک ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن سندور میں بھارت نے پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا اور وہ دوبارہ ایسی ہی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں تیار رہنا ہوگا۔

آئی ایس پی آر نے ایسے بیانات کو غیرذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ سیاسی دباؤ میں دیے گئے بیانات نہ صرف جنگی جنون کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے اشاروں اور بیانات کا مقصد اندرونی ووٹر بیس کو متاثر کرنا ہے — وہی حکمتِ عملی جو ہر ریاستی الیکشن سے قبل دیکھی جاتی رہی ہے۔

پاک فوج نے واضح کر دیا ہے کہ حالات کا قابلِ تحمل اور ذمہ دارانہ حکمتِ عملی کے تحت جواب دیا جائے گا۔ دفاعی ادارے اپنے عوام اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر وقت چوکس اور تیار ہیں۔ آئی ایس پی آر نے عوام اور بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لیا کہ امن کی کوششوں اور حقائق کی ترویج جاری رہے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کو وقت پر کنٹرول کیا جا سکے۔