پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے ایک متفقہ حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
وزیرِاعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کا اہم اجلاس ہوا جس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی صدر جنید اکبر، اسد قیصر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور امن جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
امن جرگے میں سابق وزرائے اعلیٰ، گورنرز، علماء، جرگہ مشران، سول سوسائٹی، وکلاء اور دیگر اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔ اس جرگے کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔
وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ قبائل اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے اور ہمیشہ پاکستانی رہیں گے۔ انہوں نے پولیس کو جدید آلات، تربیت اور وسائل فراہم کرنے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔
قبل ازیں سہیل آفریدی نے باڑہ میں امن جرگے سے خطاب میں کہا کہ ان کی نامزدگی پر بعض اعتراضات اٹھائے گئے ہیں اور ضم اضلاع کے بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا، “ہمیں بھیک نہیں چاہیے، ہمیں اپنا حق چاہیے۔” ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ ہر ضلع میں امن جرگوں کا انعقاد کیا جائے گا۔









