بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فوج کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دی گئی ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے عسکری قیادت کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے۔نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت مذاکرات سے متعلق ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کرے گی اور اس کے بعد اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مذاکرات آئین پاکستان کے تحت ہی ہوں گے، آئین سے بالاتر کسی معاملے اور مطالبے پر بات چیت نہیں ہوگی اور نہ ہی ملک کے آئین سے ماورا کوئی معاہدہ کیا جائے گا۔

22 جون کو فوج نے سیاسی قیادت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ جاری بات چیت میں کالعدم ٹی ٹی پی کو آئین سے بالا تر کوئی بھی رعایت نہیں دی جائے گی جب کہ دہشت گرد گروہ کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ پارلیمانی منظوری سے مشروط ہوگا۔

عسکری قیادت کی جانب سے یہ یقین دہانی وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں کرائی تھی۔

قومی سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی جو افغان طالبان کی مدد سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان ہونے والی ملاقات کا اہتمام حکمران اتحاد میں شامل ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں نہ لیے جانے پر احتجاج درج کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات افغانستان میں ہو رہے ہیں اور نئے حکمران یعنی طالبان حکومت ان مذاکرات کے عمل میں مدد کر رہے ہیں۔

عمران خان کے اس انکشاف کے چند روز بعد ان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے یہ کہہ کر بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا کہ وہ طالبان کے ہونے والے مذاکرات یا ایسے کسی بھی مکالمے سے لاعلم ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردانہ حملے کے بعد اس مسئلے کے حل کے لیے متفقہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے عمران خان سمیت سیاسی قیادت کو وزیر اعظم ہاؤس مدعو کیا تھا۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی حال ہی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو پارلیمنٹ سے خفیہ رکھنے کا معاملہ اٹھایا تھا، اس موقع پر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات موجودہ حکومت کے دور میں شروع نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ یہ مذاکرات کون کر رہا ہے اور یہ بات چیت کہاں ہو رہی ہے، وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی حالیہ میٹنگ میں چیزیں واضح ہوئیں۔

اس سے قبل پولیس لائنز میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، گزشتہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ٹھیک مذاکرات نہیں کیے اور اس کی جانب سے معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت اتنی خراب اور بیمار ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو صرف ایک ارب ڈالر دینے لیے سخت شرائط عائد کردی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے بات چیت کرکے پوری کوشش کی اور ہر دلیل پیش کی کہ ہمیں ایندھن کی قیمتیں نہ بڑھانی پڑیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکمران جماعت نے نئے مینڈیٹ کے حصول کے لیے اسمبلیاں تحلیل کرنے سے متعلق سوچ بچار اور غور و خوض کیا تھا لیکن اگر ان حالات میں پاکستان کو نگران حکومت کے حوالے کیا جاتا تو ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا۔