اسلام آباد(ممتازنیوز) ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایندھن،بجلی، زرعی آلات وادویات کی قیمتوں سمیت دیگراخراجات بڑھنے سے ملک میں کپاس، چاول، گنے، تیل دار اجناس، سبزیوں و پھلوں کی پیداوار میں 45 سے 65فیصد کمی آگئی ہے۔ایک انٹرویومیں ابراہیم مغل نے کہاکہ گزشتہ چار سال کے دوران ڈیزل، بجلی ، موبل آئل، ٹریکٹر ز، بیج ، کھاد، زرعی ادویات، زرعی اوزار و مشینری ،کٹائی، بھرائی، لوڈنگ، ان لوڈنگ سمیت دیگر زرعی لوازمات کے نرخ 200 سے 250فیصد بڑھ گئے ہیں جس کے وجہ سے کسان زمین کی تیاری کے لئے نہ تو پورے ہل چلاتا ہے اور نہ ہی مہنگا بیج اور کھاد لے سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آبپاشی اور زرعی ادویات اس قدر مہنگے ہیں کہ ان کا ضرورت سے بھی پچاس فیصد کم استعمال کرنا غریب کسان کی مجبوری ہے ،یوںکپاس ،چاول، گنا تیل دار اجناس، سبزیوں و مختلف پھلوں کی پیداوار میں 45 سے 65فیصد کمی آگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک کپاس دو کروڑ گانٹھیں، چاول ایک کروڑ ٹن، گندم تین کروڑ ٹن، آٹھ کروڑ ٹن دالیں ،مجموعی طور پر پندرہ لاکھ ٹن کینولہ سرسوں، توریا، سورج مکھی، سویا بین سب ملا کر ستر لاکھ ٹن ملک میں پیدا نہیں کئے جاتے نہ تو جی ڈی پی بہتر ہوگی اور نہ ہی مہنگائی میں کمی آئے گی اور نہ ہی برآمدات بڑھ پائیں گی اور نہ ہی تجارتی خسارہ کم ہوگا۔انہوں نے تجویز دی کہ زراعت اور لائیو سٹاک کو اتھارٹیز بنا دیں ،کپاس کے خریداری نرخ 7000روپے من ،گندم3000روپے من ،چاول موٹا 2000روپے من ،باسمتی 3500روپے من، تیل دار اجناس 8000روپے من کر دیا جائیں تو پیداوار یک دم بڑھے گی اور ملک مصیبتوں سے نکل جائے گاچنانچہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانا بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ تیس ارب ڈالر تک دو سال میں لے کر جائیں ،بھارت 150ارب ڈالر کی آئی ٹی ایکسپورٹ کر رہا ہےافرادی قوت بھی ایکسپورٹ کی جائے۔ڈاکٹر ابراہم مغل نے کہاکہ حکومت اگر ہر گھر کو ایک پانچ کلو واٹ کا سولر سسٹم اقساط پر لگا کر دے جنہیں پانچ سال میں کلیئر کرنا ہو تو ہر کوئی سولر سسٹم لگوا لے گا اور ملک کی لوڈ شیڈنگ کا ایشو ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے گا اور تیل پر چلنے والے تقریباً 50بجلی گھر فوراً بند ہوجائیں گے جس سے اربوں ڈالر کا تیل کی امپورٹ کا بل ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے گا اور معیشت بہتر ہو جائے گی۔
ایندھن،بجلی ،آلات مہنگے ہونے پر زرعی پیداوار میں 65فیصد تک کمی آگئی،ڈاکٹر ابراہیم مغل








