امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت ہو چکی ہے اور ممکنہ امن معاہدہ طے پا جانے کے قریب ہے۔
تھینکس گیونگ کی تقریب سے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس جنگ نے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لے لی ہیں، مگر اب امن کے مسودے پر غیر معمولی ترقی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق معاملہ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صرف نو ماہ کے دوران آٹھ مختلف تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، اور اب ان کی پوری توجہ روس۔یوکرین جنگ ختم کرانے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو ماسکو بھیجنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ روسی صدر سے ملاقات کے ذریعے باقی نکات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق اب صرف چند اختلافی مسائل حل ہونا باقی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امن منصوبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کچھ حساس معاملات پر مزید گفت و شنید درکار ہے۔
چند دن قبل امریکی اور یوکرینی وفود نے جنیوا میں 28 نکاتی امریکی امن تجویز پر بات چیت کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ وہ ایک نئے فریم ورک کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن بھی دے رکھی ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
روس۔یوکرین جنگ اختتام کے قریب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ








