لندن(ویب ڈیسک) برطانیہ کی حکومت نے بالآخر عوام کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کم از کم اجرت میں اضافہ کا اعلان کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی حکومت نے ملک میں کم از کم اجرت میں ملازمین کی عمر کی حساب سے اضافہ کردیا۔جس کے تحت 16 اور 17 سال کے ورکرز کی اجرت میں 6 فیصد جب کہ 18 سے 20 برس کے عمر کے ملازمین کی اجرت 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 10.85 پاؤنڈز فی گھنٹہ مقرر ہوئی ہے۔
اسی طرح 21 سال یا اس سے زائد عمر کے ورکرز کے لیے کم از کم اجرت 4.1 فیصد تک بڑھا کر 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ ہو جائے گی۔تربیت حاصل کرنے یا اپرنٹس کرنے والے نوعمر ملازمین کی اجرت میں بھی 8 پاؤنڈز فی گھنٹہ کی مقرر کی گئی ہے۔تاہم کم از کم اجرت میں اس اضافے کا اطلاق اپریل 2026 سے ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اجرتوں میں یہ اضافہ ان لاکھوں ورکرز کے لیے ضروری ہے جو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیش بہا رہائشی اخراجات میں بھی کم آمدنی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔تاہم حکومت کے کم از کم اجرت پر اضافے کے اس فیصلے پر ملازمت فراہم کرنے والے اداروں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اجرتوں میں اضافہ کاروباری اخراجات بڑھائے گا جس سے بعض شعبوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں یا نوجوانوں کی ملازمتیں کم ہو سکتی ہیں۔یاد رہے کہ کم از کم اجرت میں یہ اضافہ 2025 کے دوران پہلے بھی ایک بار ہوا تھا مگر اس نئی ترمیم سے تنخواہوں میں ایک بار پھر نیا اضافہ ہوسکتا ہے۔
علاوہ ازیں برطانوی حکومت نے ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ملکی اور غیرملکی افراد فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں کورونا کے بعد سے گھروں کے بڑھتے ہوئے کرایوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کی پریشانی میں دہرا اضافہ کردیا ہے۔









