اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ریلوے کی زمین 1 لاکھ 68 ہزار 858 ایکڑ ہے جس میں سے صرف 10 ہزار 772 ایکڑ قانونی طور پر لیز پر دی گئی ہے-
پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم کی زیر صدارت ہوا- جس میں سینیٹرز مرزا محمد آفریدی، مشاہد حسین سید، نصیب اللّہ بازئی، دوست محمد خان، شہادت اعوان، سینیٹر مشتاق احمد ، سیکریٹری وزارت ریلوے، سی ای او پاکستان ریلوے، آئی جی پی ریلوے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
سینیٹر مشتاق احمد نے اجلاس میں ریلوے پٹرولرز کی برطرفیوں کا معاملہ اٹھایا اور کہا یہ لوگ 15-20 سال تک ریلوے کی خدمت کر چکے ہیں اب ان کے ساتھ یہ زیادتی ظلم ہے-ان سے روزگار نہیں چھیننا چاہئے-ان کو بحال کر کے مستقل کیا جائے-
سیکرٹری وزارت ریلوے نے کہا کہ سروسز کو مستقل کرنا ان کے اختیار میں نہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ان کومستقل کرنے کا اختیار رکھتی ہے- ڈیلی ویجرز کی بحالی شروع کر دی گئی ہے-
کمیٹی نے نکالے گئے ریلوے پٹرولرز کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ڈیلی ویجرز ملازمین میں زخمی یا شہید ہونے والوں کو مستقل ملازمین کی طرز پر سہولیات دینے کی ہدایات جاری کیں۔
وزارت ریلوے کے حکام نے ریلوے کی گزشتہ تین سالوں میں لیز کی گئی زمین کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیں -پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی زمین 1 لاکھ 68 ہزار 858 ایکڑ ہے جس میں ریلوے کی کل لیز کردہ زمین 10 ہزار 772 ایکڑ ہے-9 ہزار 291 ایکڑ زراعت ، 955 ایکڑ رہائش ، 221 ایکڑ کمرشل اور 305 ایکڑ مقاصد کیلئے لیز کی گئی ہے-
حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ 3 سال میں ریلوے نے کل 4779 ایکڑ کی زمین لیز پر دی ہے، پشاور 112 ایکڑ، راولپنڈی میں 621 ایکڑ، لاہور میں 1344 ایکڑ، مغل پور ہ میں 2.1 ایکڑ، ملتان میں 2425 ایکڑ، سکھر میں 79 ایکڑ،کراچی میں 191 ایکڑ اور کوئٹہ میں 5 ایکڑ زمین لیز پر دی گئی ہے۔
کمیٹی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج پاکستان ریلوے کوئٹہ کے تحت بھرتی کئے گئے 10 سب انجینئرز کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا- حکام نے بتایا کہ ان سب انجینئرز کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا- اس کے بعد ایک ایک سال کی توسیع دی جا رہی ہے- ان ملازمین کو نہیں فارغ کیا جائے گا-ان ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے پاس ہے اور ان کو مستقل کرنے کیلئے عمر کی حد بھی بڑھ گئی ہے-
کمیٹی نے سینیٹر مشاہد حسین سید کی تجویز پر فیصلہ کیا کہ چیئرمین کمیٹی اور وزارت ریلوے کی جانب سے ان سب انجینئرز کو عمر کی حد میں چھوٹ دینے کے حوالے سے ایک سمری وزیراعظم کو لکھ کر کابینہ سے منظور کی جائے-
ایم ایل منصوبے کے حوالے سے سیکریٹری ریلوے نے بتایا کہ کچھ سیکیورٹی، غیر یقینی صورتحال اور گزشتہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے بیانات کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا- اس منصوبے کی کل لاگت اب تاخیر کے باعث 6. 8ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9. 8 بلین ڈالرز ہو گئی ہے-منصوبہ 7 سال میں مکمل ہوگا اب کراچی سرکلر ریلوے کو بھی ایم ایل ون میں شامل کردیا گیا ہے-
ریلوے کی 1 لاکھ 68 ہزار ایکڑ زمین میں سے صرف 10772 ایکڑ لیز پر ہونےکا انکشاف








