وفاقی آئینی عدالت نے گندم کوٹہ سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پالیسی سازی ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے، نہ کہ عدلیہ کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔ سندھ حکومت نے 31 مئی 2023 کے سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سبطین محمود، نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی گائیڈ لائنز آئین کے مطابق نہیں تھیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ پالیسی بنانے کا اختیار ایگزیکٹو کے پاس ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ پالیسی ایگزیکٹو بناتا ہے اور اس کا اعلان بھی وہی کرتا ہے۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کی اپیل منظور کر لی۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا تھا جب فلور مل کے مالکان گندم کوٹہ کے حصول کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے تھے۔









