سندھ ہائیکورٹ نے ان لینڈ فریٹ سبسڈی نہ ملنے کے خلاف دائر 16 شوگر ملز کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
درخواستگزار شوگر ملز کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے چینی کی برآمدات کے لیے سبسڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن نیب کی تحقیقات کے باعث سبسڈی روک دی گئی۔
ٹڈاپ کے وکیل بیرسٹر اسد احمد نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ تجارت کی ہدایت اور فنڈز کی دستیابی کے بغیر سبسڈی جاری نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سبسڈی کسی کا بنیادی حق نہیں، اور بظاہر منظور شدہ گرانٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ عدالت وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یہ رٹ جاری کرنا ممکن نہیں۔
اس فیصلے کے بعد 16 شوگر ملز کی درخواستیں خارج کر دی گئیں، حالانکہ ای سی سی کی منظوری کے باوجود سبسڈی روکنے پر یہ مقدمات دائر کیے گئے تھے۔









