لاہور – جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پہلے یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ 70 ہزار مبینہ جعلی ووٹوں کی بنیاد پر کیسے کامیاب ہوئے اور اسمبلی میں کس نے پہنچایا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم نے کہا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی بنیاد پر قائم ہے، اس لیے نواز شریف کو حقائق کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ ان کے بقول، اگر نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے واقعی اختلافات تھے تو پھر اقتدار میں کیوں آئے اور جمہوریت پر حملوں میں اس کے ساتھ کیوں شامل ہوئے؟
انہوں نے ن لیگ کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب پارٹی ناراض ہوتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے بلند کیے جاتے ہیں، اور مفاہمت کے بعد پارٹی کے حق میں نعرے بلند کیے جاتے ہیں، اس لیے نواز شریف کو واضح جواب دینا ہوگا کہ ووٹ کی عزت کتنی ہوئی۔
حافظ نعیم نے ’بدل دو نظام‘ تحریک کے سلسلے میں تین روزہ اجتماع کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں کے امراء کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی ضروری ہے اور 23ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے، جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
انتخابی عمل اور بیوروکریسی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں کبھی آر ٹی ایس اور کبھی فارم 47 کے ذریعے قائم کی جاتی ہیں، اور نوکری شاہی کرپشن کا باعث بنتی ہے، جبکہ اختیارات عوام تک نہیں پہنچتے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خاندانی سیاسی جماعتوں، بلدیاتی اختیارات کی کمی، پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت قتل اور منشیات کی بڑھتی ہوئی صورتحال، اور سندھ و بلوچستان میں بدعنوانی اور بنیادی سہولیات کے مسائل پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی امن، شہری سہولیات، بلدیاتی حقوق اور آئینی حکمرانی کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی اور عوامی مسائل پر حکومت کو مزید استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بڑے دھرنے، اسمبلیوں کے گھیراؤ اور دیگر جمہوری راستے استعمال کیے جائیں گے تاکہ ’بدل دو نظام‘ تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے۔









