بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ظلم نہیں، عدل و انصاف کی حکومت

دنیا کا کوئی معاشرہ انصاف، مساوات اور امن کے بغیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ ظلم نہ صرف افراد کے دل جلا دیتا ہے بلکہ پورے سماج کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو عدل و انصاف کو اپناتی ہیں، اور وہ قومیں زوال پاتی ہیں جو ظلم اور جبر کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل، احسان اور انسانیت کا علم بردار ہے۔
قرآن مجید اور احادیث میں عدل کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد کی زندگی کا اصول ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ظلم سے بچو، کیوں کہ یہ قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔‘‘ ظلم کی مختلف شکلیں معاشی، سماجی، سیاسی اور روحانی ہو سکتی ہیں، جیسے دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹنا، ذات پات کی بنیاد پر تفریق، حکمرانوں کا ذاتی مفاد کے لیے قانون کو مروڑنا، یا شرک اور بدعات میں مبتلا ہونا۔
ظلم معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اعتماد، محبت اور بھائی چارہ ختم ہو جاتے ہیں، اور نظام زندگی بکھر جاتا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ’’ریاست کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔‘‘
اسلام میں عدل کے ساتھ احسان کا بھی حکم ہے۔ ہر شخص کو اس کا حق دینا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء)
ظلم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات، تعلیم اور شعور کی بیداری ضروری ہیں۔ عدالتی نظام کو مضبوط بنانا، علماء، دانشور اور صحافیوں کو سچ بولنے کی ہمت دینا، اور ہر فرد کا انصاف پر قائم رہنا معاشرتی استحکام کے لیے لازمی ہے۔ ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے۔
اسلامی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ معاشرہ ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ پائیدار، برابری، احترام اور امن کا ضامن ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور عدل کی گواہی دو۔‘‘ (المائدہ) عدل و احسان کا نظام ہی حقیقی امن اور کامیابی کی بنیاد ہے۔