پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخابات کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم الیکشن کمیشن نے حلقے میں دھاندلی سے متعلق تحریکِ انصاف کے الزامات سختی سے مسترد کردیئے۔ پولنگ ڈے تک کسی جماعت نے افسران پر اعتراض نہیں کیا، ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ مخصوص عناصر حسبِ معمول انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی 23 نومبر کو ہری پور کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی الیکشن کے نتائج ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے الیکشن کی انکوائری کا اعلان کر دیا۔ صوبائی معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے انکوائری کا حکم دیا۔ دھاندلی سے متعلق باقاعدہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دھاندلی کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے اپنے افسران ہی ڈی آر او اور آر او کے فرائض نبھاتے ہیں۔۔ این اے 18 میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا ۔ تمام افسران اسی علاقے میں پہلے سے موجود تھے۔ پولنگ کے دن کسی سیاسی جماعت نے افسران کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے فارم 45 پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی مکمل طور پر گمراہ کن قرار دے دیا۔ کہا صوبائی انتظامیہ نے پولنگ بیگز اور نتائج آر او آفس میں جمع کرائے، جب کہ سکیورٹی انتظامات بھی مکمل طور پر صوبائی حکومت نے کیے تھے۔ ہر الیکشن کے بعد ایک جیسے الزامات دہرانا جمہوری عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش ہے۔ اگر کسی جماعت کو اعتراض ہے تو متعلقہ فورم یعنی الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرے۔ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے آئین و قانون کے مطابق کام کیا ۔ مستقبل میں بھی قوانین پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا۔









