بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئینی ترمیم مسترد کرنا کسی عدالت کے اختیار میں نہیں، چیئرمین پیپلزپارٹی

 

لاڑکانہ: (نیوزڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت اور 1973 کے آئین کی بنیاد رکھی۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ پاکستان کے ماضی اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہے، ہمارا فلسفہ ہے کہ ہم نے ملک کے متوسط اور پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا فلسفہ ہے کہ ہم نے ملک کے متوسط اور پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے، پیپلز پارٹی کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی، جب ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تو بینظیر بھٹو اپنے والد کی جدوجہد کو آگے لے کر چلیں اور 30 سال تک جدوجہد کی۔ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے بنائے گئے آئین کی بحالی کے لیے، جمہوریت کی بحالی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے لڑتی رہیں، 2 آمروں سے ٹکرائیں اور آخر کار لیاقت باغ میں شہادت نوش کی، پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی پارٹی کے پرچم کو گرنے نہیں دیا، صدر آصف علی زرداری نے وہ پرچم تھام کر 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کی بحالی کا تاریخی کام کیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صدر زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے فلسفہ سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بنیاد رکھی اور ملک کی غریب ترین عورتوں کو مالی مدد پہنچائی، صدر زرداری نے خیبرپختونخوا کا نام صوبے کو دیا اور بلوچستان کے لیے آغازِ حقوقِ بلوچستان شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے این ایف سی کی صورت میں تمام صوبوں کو حقوق دیے، مئی میں پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوئی، جس میں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دے کر فتح حاصل کی، ہماری بہادر افواج، ایئر فورس نے بھارت کے 7جہاز گرا کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، جس پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر ایک نیا مقام بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت وقت، خارجہ پالیسی کو اور تمام افواج کو، ان تمام کرداروں کو جن کا بھارت کو شکست دینے میں کردار تھا، پاکستان پیپلز پارٹی اس سے مطمئن بھی ہے، خوش بھی ہے اور اس جیت کا ہم جشن بھی بناتے ہیں۔