اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدن میں زبردست اضافہ، امریکا کا پہلا نمبر
سٹاک ہوم (نیوزڈیسک): سویڈن کے ایک تحقیقی ادارے نے 2024 کے اسلحہ ساز کمپنیوں کے آمدن کا ڈیٹا جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے گزشتہ سال آمدنی میں ریکارڈ سطح تک اضافہ کیا۔
پیر کو جاری رپورٹ کے مطابق دنیا کی ہتھیار بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں نے گزشتہ سال ہتھیاروں اور ملٹری سروسز کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں 5.9 فی صد اضافہ دیکھا۔
اسلحہ فروخت ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایک طرف یوکرین اور غزہ کی جنگوں میں اسلحے کی فروخت میں اضافہ ہوا، دوسری طرف مختلف ممالک نے فوجی اخراجات میں اضافہ کیا، جس کے لیے اسلحے اور سروسز کی مانگ پوری کرنی پڑی۔
کیتھولک چرچ کئی سال سے دو ریاستی حل کی حامی ہے، پوپ لیو
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اسلحہ بیچنے کی دوڑ میں امریکا کا پہلا نمبر ہے، یورپ اور اسرائیل بھی ریس میں آگے ہیں، تاہم ایشیا کی ترجیحات میں اسلحہ زیادہ نمایاں نہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی 100 سب سے بڑی اسلحہ ساز اور ملٹری سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی کل سالانہ آمدن 2024 میں 679 ارب ڈالر رہی جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔ گزشتہ ایک دہائی 2015 سے 2024 تک یہ آمدن تقریباً 26 فی صد بڑھ چکی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ 9 کمپنیاں ٹاپ ہنڈریڈ میں شامل ہوئیں۔








