بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار

اسلام آباد(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اس کے بے لگام استعمال سے سیکیورٹی اداروں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غیر رجسٹرڈ وی پی این نہ صرف دہشت گردوں، جرائم پیشہ گروہوں اور شدت پسند عناصر کے لیے ڈھال بن چکا ہے بلکہ یہ حملوں کی منصوبہ بندی، غیر قانونی سرگرمیوں، مالی جرائم اور گمراہ کن مواد کے پھیلاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے وی پی این کے ذریعے صارف اپنی شناخت مکمل طور پر چھپا لیتا ہے، جس کے باعث کسی بھی مشتبہ سرگرمی کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این دہشت گردوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو خفیہ رابطوں، فنڈز کی منتقلی اور ڈیجیٹل حملوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے بھی غیر قانونی یو آر ایلز اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والی ویب سائٹس کو تصدیق کے بعد بلاک کیا جا رہا ہے، جب کہ صرف منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کی سفارش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق غیر مصدقہ وی پی اینز کے استعمال سے دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے ذریعے اربوں روپے کی ٹیکس چوری اور فیس کی منتقلی بیرون ملک ہو جاتی ہے، جس سے ملکی خزانے پر بھی بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق بھارت نے بھی وی پی این خدمات پر سخت نئی ہدایات جاری کر کے نگرانی بڑھا دی ہے۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق حکومت نے وی پی این سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے صارفین کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی لازمی شرط عائد کی ہے۔ دوسری جانب بھارتی اخبار دی ہندو نے رپورٹ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی اور پونچھ اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باعث دو ماہ کے لیے وی پی این سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی وی پی این نہ صرف قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ انٹرنیٹ ٹریفک میں اضافے اور سرورز کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ مفت وی پی این سروسز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیوں کہ ماہرین کے مطابق یہ سروسز درحقیقت صارف کی پرائیویسی کی قیمت پر چلتی ہیں اور ان کے ذریعے ذاتی ڈیٹا بیچنے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔

سیکیورٹی اداروں اور سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے بڑھتے ہوئے استعمال کا فوری تدارک ناگزیر ہے، اور صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ اور رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال ہی سے پاکستان کو ممکنہ سنگین خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔