بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر اسٹیرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک )وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس ہوا جس میں عسکری قیادت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ بات چیت پر بریفنگ دی۔
نجی ٹی وی کے مطابق عسکری قیادت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کو سکیورٹی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی جب کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور تمام پس منظر سے بھی باخبر کیا گیا جس میں بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔
اجلاس میں کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر اسٹیرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا ہے اور اب تک بات چیت کے ہونے والے ادوار پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ افغانستان حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی سے بات چیت کا عمل جاری ہے، مذاکراتی کمیٹی حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ کمیٹی آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کر رہی ہے جب کہ حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کی رہنمائی اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔
اجلاس میں ملک کو داخلی و خارجہ سطح پر لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کا بتایا گیا اور اجلاس کو پاکستان افغانستان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔

دریں اثنا اجلاس کے اعلامیے میں کہاگیاکہ شرکاءنے اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خلاف پاکستان نے غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا عالمی سطح پر اعتراف کیاگیا ہے۔ اجلاس نے قوم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جن کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں ریاستی عمل داری یقینی ہوئی۔ اجلاس نے اعادہ کیا کہ دستور پاکستان کے تحت طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے۔ اجلاس نے سانحہ ’اے پی ایس‘ سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے اور اِس کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریاست پاکستان اپنے شہداءکی قربانیوں اور متاثرہ خاندانوں کی امین ومحافظ تھی، ہے اور رہے گی۔
اجلاس نے بہادر قبائلی عوام کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اُن کی قربانیوں اورکلیدی حمایت سے شدید مشکلات اور مصائب کے بعد امن واستحکام کی منزل حاصل ہوئی ۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ سکیورٹی فورسز کی موثراور عملی کارروائیاں کلیر ،ھولڈ، تعمیر اور اختیارات کی سول انتظامیہ کو منتقلی*‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اجلاس نے زور دے کر کہاکہ پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ریاست ان علاقوں کو بااختیار بنانے اور اِن کی خوش حالی کے لئے پختہ عزم پر کاربند ہے۔
افغان حکومت کی معاونت اور سول و فوجی حکام کی قیادت میں حکومت پاکستان کی کمیٹی کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین پاکستان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کررہی ہے تاکہ علاقائی اور داخلی امن کو استحکام مل سکے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ حتمی نتائج پر عمل درآمددستور پاکستان کی حدود قیود کے اندر ضابطے کی کارروائی کی تکمیل اور حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد ہوگا۔
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے بات چیت کے اس عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی جبکہ ایک ’پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی‘ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جوآئینی حدود میں اس عمل کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔اجلاس نے ’نیشنل گرینڈ ری کنسی لی ایشن ڈائیلاگ‘ کی اہمیت کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ آج کی نشست اس سمت میں پہلا قدم ہے۔