بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کساد بازاری کا خدشہ، خام تیل کی قیمتوں میں10 ڈالر فی بیرل کمی، 100 ڈالر سے نیچے آگئیں

واشنگٹن(نیوزڈیسک) عالمی کساد بازاری کے خدشے کے پیش نظر انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں10 ڈالر فی بیرل تک کمی آئی جس کے بعد اس کی قیمتیں 100 ڈالر سے بھی نیچے آگئی ہیں،ادھر امریکی ملٹی نیشنل انوسٹمنٹ بینک اور مالیاتی خدمات کے ادارے’’ سٹی گروپ‘‘ نے کہا ہے کہ اگر کساد بازاری کے باعث تیل کی طلب میں کمی آئی تو سال کے آخر تک اس کی قیمتیں 65ڈالرفی بیرل تک گرسکتی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق منگل کو عالمی منڈی میں برطانوی کروڈ آئل (برینٹ) کی قیمت دس اعشاریہ ستتر ڈالر فی بیرل یعنی نواعشاریہ پانچ فیصد کم ہوکر ایک سودواعشاریہ تہتر ڈالر پر آگئی۔اس کے علاوہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت نواعشاریہ تین صفر ڈالر یعنی آٹھ اعشاریہ چھ فیصد کم ہوکر ننانوے اعشاریہ ایک تین ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ماہرین کے مطابق تیل اور گیس کی قیمتوں میں ماضی قریب میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عالمی کساد بازاری کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منگل کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اور وجہ ناروے میں آف شور ورکرز کی ہڑتال بھی ہے جس کے سبب تیل کی پیداوار میں 89 ہزار بیرل کمی متوقع ہے۔دوسری جانب امریکی سٹی گروپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑھتی ہوئی کساد بازاری سے عالمی معیشت متاثرہوئی تو تیل کی قیمتیں اس سال کے آخر تک 65ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں۔یوکرین پر روس کے حملے اور وبائی امراض کے بعد طلب میں اضافے کی وجہ سے اس سال خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے افراط زربڑھا اور اور عالمی نمو متاثرہوئی تاہم فرانسسکو مارٹوکیاکی سربراہی میں سٹی گروپ کے ماہرین کاکہنا ہےکہ وہ توقع کرتے ہیں کہ 2022 کے آخر تک تیل کی قیمتیں گر جائیں گی کیونکہ  عالمی اقتصادی سست روی کی وجہ سے اس کی طلب میں کمی آسکتی ہے ۔ مارٹوکیا اور اس کے ساتھی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ سال کے آخر تک روسی برآمدات میں اضافہ ہو گا کیونکہ بھارت اور چین اس کا تیل حاصل کر رہے ہیں۔تاہم بہت سے تجزیہ کاریہ توقع ظاہر کررہے ہیں کہ ماسکو پر پابندیوں کی وجہ سے اس کی برآمدات میں کمی آئے گی۔سٹی گروپ کے مطابق جب کساد بازاری ہوتی ہے تو بے روزگاری اور کارپوریٹ دیوالیہ پن بڑھ جاتا ہے،یوں توانائی کی طلب میں کمی آتی ہے، توانائی کی زائد مقدار عام طور پر بڑھ جاتی ہے، جو بیچنے والوں کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے قیمتوں میں تیزی سے کمی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سٹی گروپ نے یہ بھی کہا کہ روس پر یورپی پابندیاں جیسا کہ یورپی یونین کی طرف سے روس سے درآمدات کو تیزی سے کم کرنے کا منصوبہ ہے،تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے تاہم سٹی گروپ کا خیال ہے کہ سال کے آخر تک تیل کی قیمتیں 120 ڈالر تک بڑھنے کا امکان 30 فیصد ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں بھی مہنگائی کے باعث صارفین کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے پٹرول وڈیزل کی قیمت میں بھی بیس سے پچیس فیصدتک کم ہوگئی ہے۔