بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اداروں میں ٹکراؤ افسوس ناک ہے، مسائل کا حل مل بیٹھ کر نکالنا ہوگا، شاہد خاقان عباسی

عوامِ پاکستان کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ ملک کے لیے نہایت افسوس ناک صورتحال ہے کہ ریاستی ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں اور ماحول میں نفرت بڑھ رہی ہے۔
پشاور پریس کلب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئین میں ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کو ملکی تاریخ پر “سیاہ دھبہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلیاں کبھی ذاتی فائدے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ قومی مفاد کے لیے کی جاتی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک اس وقت اسی لیے مسائل میں مبتلا ہے کیونکہ قانون اور آئین سے انحراف معمول بن چکا ہے، اور نوجوانوں کے مستقبل کی کسی کو فکر نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہوسکتی، اور بدقسمتی سے آج یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں، گالم گلوچ اور نفرت سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ:”ہم کسی کو گالی نہیں دیتے، ہم جوڑنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر آج سب نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کل صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔”
شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ وہ کسی طاقت کا سہارا لے کر نہیں بلکہ عوامی حمایت سے آگے آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
گورنر راج کی چہ مگوئیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختون خوا میں اس کی گنجائش ہے تو ہر صوبے میں ہے، مگر اصل مسئلہ اختیارات کی ہوس ہے—اگر کرسی کی خواہش چھوڑ دی جائے تو بہت سے مسائل خود ہی حل ہو جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اسی وقت ہوئی جب جماعت نے “ووٹ کو عزت دو” کے اصول سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں واٹس ایپ گروپس سے نہیں چل سکتیں، آئینی ترمیم ہمیشہ عوامی مفاد میں ہونی چاہیے۔
آخر میں افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کا ہر صورت دفاع کرنا ہے:
اگر وہاں سے جارحیت ہو تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا، خاموش رہنے کا کوئی آپشن نہیں۔”