تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عمر ایوب کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے 26ویں ترمیم سے پہلے بھی خوش نہیں تھے اور آج بھی نہیں ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اس وقت تحریک کے مقبول قائد صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں، اور انہیں سے سیٹیں چھین لی گئی ہیں، حتیٰ کہ ہری پور کی نشست بھی چھینی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام اب بھی تحریک چلانے کے لیے تیار ہیں، اور اگر اپوزیشن بلائے تو عوام ضرور شامل ہوں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمر ایوب کو 50 سال اور شبلی فراز کو 40 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا:نوٹیفیکیشن ہو یا نہ ہو، محمود اچکزئی اور ناصر عباس ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ اپوزیشن لیڈرز چاہیں تو ڈائیلاگ کریں یا احتجاج، ہم ان کے ساتھ ہیں۔”
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں 175 سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور پارلیمنٹ میں 14 پارٹیاں ہیں، اور اپوزیشن لیڈر کے معاملے میں وہ مولانا فضل الرحمان کی رائے بھی سننے کے لیے تیار ہیں۔
بیرسٹر گوہر: نوٹیفیکیشن نہ بھی ہو، محمود اچکزئی اور ناصر عباس ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں







