امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ایران، حماس اور یوکرین کے حوالے سے اپنے سخت موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری پروگرام جاری رکھے گا تو اسے شدید نتائج بھگتنا ہوں گے، حماس کو غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں قیمت چکانی ہوگی، جبکہ غزہ سے اسرائیلی انخلا ایک الگ معاملہ ہے جس پر بعد میں بات ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے یوکرینی حملے کے بعد پیوتن کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
ان بیانات نے عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہم واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں یا اب بھی طاقت، دھمکی اور خوف کی پرانی سیاست کے دائرے میں الجھے ہوئے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت الفاظ اور حماس کو غیر مسلح ہونے کی وارننگ کے ساتھ ساتھ غزہ کے حوالے سے علیحدہ موقف، اس تصویر کو واضح کرتے ہیں جس میں دوغلا پن، طاقت کا غرور اور تضاد نمایاں ہے۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، مگر عالمی نظام کے دہرے معیار — اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں پر خاموشی — نے اس پر دفاعی سوچ اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی محض ایک بیان نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں تلاش کیا جاتا ہے۔ مگر ایران کی تاریخ، قومی شناخت اور عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ جارحانہ زبان اور دباؤ اکثر الٹا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماضی میں سخت پابندیوں نے ایران کو جھکانے کے بجائے خود کفالت، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی پالیسی کی طرف دھکیلا ہے، اور خدشہ ہے کہ یہ دھمکیاں بھی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
اسی طرح غزہ اور حماس کا معاملہ محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ طویل محاصرے، معاشی مشکلات اور خوف کے ماحول میں غیر مسلح ہونے کا مطالبہ یکطرفہ طاقت کے توازن کو نظر انداز کرتا ہے۔ غزہ سے اسرائیلی انخلا کو الگ مسئلہ قرار دینا بھی بنیادی مسائل سے نظریں ہٹانے کے مترادف ہے۔ فلسطین کے مسئلے کا حل صرف سیکیورٹی یا امداد کے زمرے میں نہیں بلکہ سیاسی، انسانی اور باوقار حل میں چھپا ہے۔
امریکا کا کردار اس منظرنامے میں سب سے زیادہ متنازع اور فیصلہ کن ہے۔ واشنگٹن عالمی امن اور جمہوریت کا علمبردار بننے کی کوشش کرتا ہے، مگر اکثر پالیسیاں مخصوص اتحادیوں کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ اسرائیل کو غیر مشروط حمایت اور طاقت کے بل پر عالمی تعلقات چلانا، مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت انصاف کے اوپر ہے۔
یوکرین کی جنگ بھی اس عالمی بحران کا ایک پہلو ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی بساط بچھا رہی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان عام شہری بھگت رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرد جنگ کے بعد جو عالمی نظم کی امیدیں تھیں، وہ شدید دباؤ میں ہیں۔
نتیجہ: عالمی سیاست میں سخت بیانات اور دھمکیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ امریکی صدر کے بیانات بھی داخلی سیاسی دباؤ اور انتخابی ماحول کے اثرات کے بغیر نہیں۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے، جنہیں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں، اس میں ناکافی نظر آتے ہیں۔
ایران، فلسطین اور یوکرین کے معاملات یہ واضح کرتے ہیں کہ عالمی نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔ امن کی راہ مذاکرات، باہمی احترام اور انصاف سے ہو کر گزرتی ہے، نہ کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے وقتی برتری دے سکتے ہیں، مگر پائیدار امن نہیں۔
اگر عالمی قیادت نے یہ سبق نہیں سیکھا تو آنے والے دنوں میں عالمی بحران صرف ایک تشبیہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ حقیقی خطرہ بن کر سامنے آ سکتا ہے۔









