اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے عدالت نے حکم جاری کیا، عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کیخلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔
پی آئی اے کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول کا شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین تنازع ہوا، جسٹس محسن اختر کیانی نے محمد وقاص، علیم سہیل اور اہلیہ ثنا سہیل کے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کئے جا چکے ، پراسس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کارروائی کالعدم ہو گی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ سپریم کورٹ طے کر چکی اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ساری کارروائی ختم ہونی چاہئے، سپریم کورٹ نے یہ بھی طے کیا کہ کریمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا سکوپ محدود ہے عدالت کو غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہئے۔
تحریری فیصلہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا، مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مرتکب اہلکاروں کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا گیا۔
فیصلہ کے مطابق اسلام آباد پولیس اہلکار جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثناء سہیل کو ادا کریں گے، خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائے۔
عدالت نے لاہور پولیس کو حکم دیا کہ وہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کیخلاف میرٹ پر تحقیقات کرے، آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کرکے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔









