اسلام آباد(نیوزڈیسک) صحتِ عامہ، ماحولیات اور ویٹرنری سائنسز کے ماہرین نے طویل تکنیکی سیشنز کے بعد اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر ) کے تدارک کے لیے ایک جامع پالیسی ‘ورکنگ پیپر تیار کر لیا ہے، جس میں فوری ادارہ جاتی اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے زیر اہتمام منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں ماہرین نے متفقہ طور پر طے کیا کہ مستقبل کی وبائی امراض سے بچنے کے لیے “ون ہیلتھ” اپروچ ناگزیر ہے۔ ورکنگ پیپر میں خاص طور پر سفارش کی گئی ہے کہ ون ہیلتھ کو ادارہ جاتی شکل دی جائے، انسانوں اور جانوروں کے مشترکہ امراض کی نشاندہی کے لیے ‘انٹیگریٹڈ سرویلنس سسٹم قائم کیا جائے اور اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اور سخت ریگولیٹری فریم ورک نافذ کیا جائے۔ فتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ون ہیلتھ آپروچ قومی صحت کی سلامتی کے لیے اہم سنگ میل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صحت کا دارومدار جانوروں کی صحت اور ماحول سے جڑا ہے۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت ون ہیلتھ فریم ورک کو اپنائے گی اور تکنیکی ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے سخت ریگولیٹری اقدامات متعارف کرائے گی تاکہ وبائی امراض کے خلاف پاکستان کی تیاریوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان تکنیکی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بتایا کہ اکیڈمی نے پالیسی کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی جانب سے خصوصی ریسپانس میکانزم کے مطالبے کے پیشِ نظر ‘ون ہیلتھ سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے اور ایک باقاعدہ ‘ون ہیلتھ ورک فورس کی تشکیل جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فرنٹ لائن ورکرز کے پہلے بیچ کی تربیت شروع ہو چکی ہے تاکہ صحت اور غیر صحت کے شعبوں کے درمیان جس اشتراک کی تجویز ورکنگ پیپر میں دی گئی ہے، اسے چلانے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہو۔ورکنگ پیپر کی سفارشات کی تکنیکی بنیاد فراہم کرتے ہوئے نیشنل کوآرڈینیٹر ون ہیلتھ، پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود علی نے بتایا کہ اے ایم آر ایک موجودہ حقیقت ہے جس نے 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 12 لاکھ 70 ہزار جانیں لیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ورکنگ پیپر میں تجویز کردہ سٹریٹجک اقدامات نہ اٹھائے گئے تو 2030 تک عالمی جی ڈی پی کو سالانہ 3.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور 2050 تک اموات 3 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بالخصوص لائیو سٹاک سیکٹر میں قوانین کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ دنیا بھر میں 70 سے 80 فیصد اینٹی مائیکروبیلز خوراک پیدا کرنے والے جانوروں میں استعمال ہو رہی ہیں جو مزاحمت کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہے۔









