اسلام آباد :(نیوزڈیسک) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے ذخائر، شعبے کی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ پر اعلی سطح اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم نے جواہرات و قیمتی پتھروں کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے رواں برس پالیسی فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ترجیحی بنیادوں پر جیولاجیکل سروے سے ذخائر کے جغرافیے اور مالیت کا تعین کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس امر میں تمام متعلقہ ادارے، صوبائی حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معیار کی لیبارٹریز اور سرٹیفیکشنز کے نفاذ کیلئے فوری اقدامات عمل میں لائے جائیں۔پالیسی فریم ورک میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ رواں برس میں ملک میں جیم اسٹونز سے متعلقہ دو مثالی سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لایا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جیم اسٹونز کے ذخائر کے مقابلے میں برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔نجی کمپنیوں بالخصوص نوجوان آنٹرپرنیورز کی اس شعبے میں حوصلہ افزائی کی جائے ۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی قیمتی پتھر دنیا بھر میں اپنے معیار کے حوالے سے مقبول ہیں، اسمگلنگ کے سدباب اور قانونی طریقے سے برآمد سے اربوں ڈالر زر مبادلہ کا حصول یقینی بنائیں گے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی مدد سے پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے وزارت خزانہ کو شعبے کی ترقی کیلئے موجودہ مالی وسائل کی فوری فراہمی کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو پاکستان میں قیمتی پتھروں کی استعداد، علاقائی تقابلی جائزہ، برآمدات میں اضافے کیلئے درکار اقدامات اور قومی پالیسی فریم ورک کے خدوخال و نفاذ کی معینہ مدت کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں جوہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جس کا محتاط تخمینہ 450 ارب ڈالر ہے ۔پاکستان میں اس وقت 5 ہزار سے زائد کمپنیاں و کاروبار اس شعبے سے منسلک ہیں جو پاکستان میں پائے جانے والے 30 سے زائد قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پائے جانے والے قیمتی پتھروں میں زمرد، زبرجد، یاقوت، پکھراج اور نیلگوں زبرجد کے ذخائر سر فہرست ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 450 ارب ڈالر کے ذخائر کے مقابلے پاکستان کی برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر سالانہ ہیں۔ وزارت صنعت و تجارت نے قومی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے دوران مسائل کی نشاندہی کے بعد ترجیحی پالیسی اقدامات کا ایک جامع لائحہ تیار کیا ہے جو پانچ برس میں اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی اس شعبے کی درآمدات کے حوالے سے ایک ارب ڈالر کے ہدف کا حصول یقینی بنائے گا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں برس کے دوران وزارت صنعت و تجارت پالیسی فریم ورک کے تحت قیمتی پتھروں کی ویلیو چین کی قومی معیشت میں شمولیت، پتھروں کی پاکستان میں پراسیسنگ کے ذریعے قدر میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ و نجی شعبے کے تربیتی پروگرامز کے ساتھ ساتھ برانڈ پاکستان کے تعارف کو یقینی بنائے گی۔
پالیسی فریم ورک میں بین الاقوامی معیار کا سرٹیفیکشن رجیم، شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے اضافے کیلئے اتھارٹی کا قیام، نیشنل وارنٹی آفس کا قیام، جیولاجیکل میپنگ، قیمتی پتھروں کی کان کنی میں جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ، برانڈ پاکستان کا تعارف، سینٹرز آف ایکسلینس کا قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس کو پالیسی فریم ورک کے نفاذ کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی۔









