آسٹریلیا میں کھیلی گئی ایشز 2025/26 سیریز انگلینڈ کے لیے ایک اور تلخ یاد بن گئی، جہاں بازبال کے نام سے مشہور جارحانہ اور مثبت اندازِ کرکٹ اپنی آخری اور سخت ترین آزمائش میں ناکام دکھائی دیا۔ بڑے دعوؤں، امیدوں اور سازگار حالات کے باوجود انگلینڈ ایک بار پھر آسٹریلوی سرزمین پر خود کو ثابت نہ کر سکا۔
بیس بال کا پس منظر اور عروج
بین اسٹوکس اور برینڈن میک کولم کی قیادت سنبھالنے سے پہلے انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ شدید زوال کا شکار تھی۔ جنوری 2021 سے 2022 کے آغاز تک انگلینڈ نے 20 ٹیسٹ میں صرف چار فتوحات حاصل کیں۔ اس دور میں جو روٹ واحد بیٹر تھے جو مسلسل کارکردگی دکھا رہے تھے۔
جون 2022 کے بعد منظرنامہ بدلا۔ انگلینڈ نے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی، رنز کی رفتار بڑھی، ناممکن نظر آنے والے رن چیز ممکن ہوئے اور ٹیم نے 25 ٹیسٹ جیتے۔ یہی وجہ تھی کہ ایشز 2025/26 سے قبل اسے 2010/11 کے بعد آسٹریلیا میں بہترین موقع قرار دیا جا رہا تھا۔
مگر حقیقت مختلف نکلی
سیریز میں مجموعی رنز کی رفتار تاریخی رہی، لیکن اس بار برتری آسٹریلیا کے پاس تھی۔ ٹریوس ہیڈ کی جارحانہ بیٹنگ، ایلکس کیری کی مزاحمت اور مچل اسٹارک کے نچلے نمبروں پر رنز نے فرق پیدا کیا۔ جہاں 2023 میں انگلینڈ نے کم میڈنز کھیلے تھے، اس سیریز میں اسے دفاعی انداز اپنانا پڑا، جو خود بازبال فلسفے کے خلاف تھا۔
انگلینڈ نے ایڈیلیڈ اور سڈنی میں طویل اننگز کھیلیں، رنز کی رفتار کم ہوئی اور مجموعی رن ریٹ 4.44 سے گر کر 3.89 رہ گیا۔ حملہ آور شاٹس کا تناسب بھی دونوں ٹیموں میں برابر رہا، جو اس بات کی علامت تھا کہ انگلینڈ اپنی شناخت سے ہٹ رہا ہے۔
ٹاپ آرڈر کی ناکامی
انگلینڈ کی شکست کی سب سے بڑی وجہ ٹاپ آرڈر کی مسلسل ناکامی رہی۔ 10 میں سے چار بار انگلینڈ پہلی ہی اوور میں وکٹ گنوا بیٹھا۔ زیک کرالی اور بین ڈکٹ کی اوپننگ جوڑی اوسطاً صرف 22 گیندیں کھیل سکی۔ یہ ایشز کی تاریخ کی کمزور ترین اوپننگ شراکتوں میں شامل ہو گئی۔
ڈکٹ پورے سیریز میں ایک بھی نصف سنچری نہ بنا سکے، جبکہ کرالی کا اوسط ٹیسٹ تاریخ کے بدترین ریکارڈز میں شامل ہو گیا۔ اولی پوپ کی کارکردگی بھی آسٹریلیا میں ایک بار پھر مایوس کن رہی۔
بروک اور اسمتھ: نیت یا لاپروائی؟
ہیری بروک اور جیمی اسمتھ سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، مگر دونوں اہم مواقع پر ٹیم کو سہارا نہ دے سکے۔ بروک بار بار 30 اور 40 کے درمیان آؤٹ ہوئے، جبکہ ان کے غیر ضروری جارحانہ شاٹس نے میچ کا رخ بدلا۔ ایڈیلیڈ اور برسبین میں ان کی وکٹیں انگلینڈ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔
بولنگ اور فیلڈنگ میں کمی
بولنگ کے شعبے میں بھی انگلینڈ پیچھے رہا۔ اگرچہ نوجوان بولرز نے وکٹیں حاصل کیں، مگر اثر انگیزی میں بین اسٹوکس سب پر بھاری نظر آئے۔ اس کے برعکس مچل اسٹارک نے نئی گیند سے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 31 وکٹیں حاصل کیں۔
فیلڈنگ میں انگلینڈ کی کیچنگ افیشینسی 75 فیصد رہی، جبکہ آسٹریلیا 85 فیصد کے ساتھ واضح طور پر بہتر تھا۔ انگلینڈ نے 18 کیچز چھوڑے، جو کسی بھی سیریز میں ناقابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں۔
اسپن کا فقدان
آسٹریلیا میں روایتی طور پر اسپن کم استعمال ہوتی ہے، مگر اس سیریز میں انگلینڈ کے پاس نیتھن لیون کے معیار کا کوئی اسپنر موجود نہیں تھا۔ پوری سیریز میں صرف 183 اوورز اسپن بولنگ ہوئی، جو آسٹریلیا میں کسی بھی پانچ میچوں کی سیریز میں سب سے کم ہے۔









