بنگلہ دیش ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نجم الحسن شانتو نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جڑے تنازع پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ کھلاڑی بظاہر خود کو نارمل ظاہر کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں ذہنی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
جمعے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم الحسن نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل بنگلہ دیش ٹیم کے ساتھ کچھ نہ کچھ غیر متوقع ضرور ہوتا ہے، جو براہِ راست کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اثر ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں کھلاڑیوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں کیونکہ بھارت میں میچز کے انعقاد پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے شرکت نہ کرنے کی دھمکی نے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
نجم الحسن نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کی ورلڈ کپ تاریخ دیکھی جائے تو ٹیم کبھی تسلسل کے ساتھ اچھی کرکٹ نہیں کھیل سکی۔ گزشتہ سال اچھی کارکردگی کے باوجود مواقع ضائع ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تین ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں اور تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ ایسے تنازعات لازمی طور پر اثر ڈالتے ہیں۔
انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کھلاڑی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور وہ مکمل پروفیشنل ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب اداکاری کر رہے ہیں کیونکہ ایسی صورتحال میں فوکس برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔
نجم الحسن کے مطابق اس کے باوجود کھلاڑی کوشش کرتے ہیں کہ ان چیزوں کو ایک طرف رکھ کر ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھائیں، مگر اگر یہ مسائل نہ ہوں تو یقیناً حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی معاملات ان کے کنٹرول سے باہر ہیں، مگر ایسے حالات میں خود کو سنبھالنا بھی ایک امتحان ہے۔
ٹیسٹ کپتان نے مزید کہا کہ جہاں بھی ورلڈ کپ کھیلا جائے، اگر درست ذہنی تیاری کے ساتھ میدان میں اترا جائے تو ٹیم کو اپنی بہترین صلاحیت دکھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
اس دوران نجم الحسن نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کی جانب سے سابق کپتان تمیم اقبال کے بارے میں کیے گئے سوشل میڈیا تبصرے پر بھی شدید دکھ اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بیان کو توہین آمیز، ناقابلِ قبول اور کھیل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ بی سی بی ڈائریکٹر نے تمیم اقبال کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا تھا، جس پر کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ تمیم اقبال نے بورڈ پر زور دیا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے میں سیاست کے بجائے کرکٹ کو ترجیح دی جائے۔
نجم الحسن نے کہا کہ انہیں اس بات پر بہت افسوس ہے کہ ایک سابق کپتان اور بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں سے ایک کے بارے میں ایسا بیان دیا گیا، جنہیں دیکھ کر انہوں نے کرکٹ سیکھنا شروع کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ احترام کی توقع رکھتے ہیں، چاہے کوئی سابق کپتان ہو یا موجودہ کھلاڑی۔ آخرکار ہر کرکٹر عزت کا خواہاں ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کو کھلاڑیوں کا محافظ ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق والدین بچوں کی اصلاح گھر میں کرتے ہیں، سب کے سامنے نہیں، اور اسی لیے ایسے تبصرے کسی سرپرست کی جانب سے ناقابلِ قبول ہیں۔
نجم الحسن نے آخر میں واضح کیا کہ وہ بطور کھلاڑی اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔









