سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں اہم انکشاف ہوا ہے کہ عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے لیے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق نیپرا کی زیرالتوا دو سالہ سروے رپورٹ بھی دو دن میں طلب کر لی گئی۔
پی آئی ڈی کراچی کے مطابق اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں ہوا جس کی صدارت کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میں سینیٹرز نے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی، نیپرا کے دیگر امور اور بجلی کی صارفین سے وصولیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نیپرا حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صارفین سے اس بجلی کے پیسے لیے جا رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وصولی صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ سردیوں میں بجلی کی کھپت کم ہو جاتی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ بجلی سستی ہونے کے اعلانات کے باوجود عوام پر بوجھ برقرار ہے، اور نیپرا کے پاس ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشنز کی درخواستیں پڑی ہیں لیکن ان پر پیش رفت معلوم نہیں۔ انہوں نے آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ بجلی کی پیداوار اور کیپیسیٹی چارجز میں کتنا پیسہ لیا گیا۔
چیئرپرسن کمیٹی نے بھی سفارش کی کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور نئے پاور پلانٹس، اراضی کی مالیت، ایندھن کی کھپت اور مشینری کی کارکردگی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ ٹیرف میں دو حصے ہوتے ہیں: کیپیسیٹی چارجز اور انرجی چارجز۔ کیپیسیٹی چارجز بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں، اور 4 کروڑ صارفین میں صرف 20 لاکھ تھری فیز کے ہیں، اس لیے یہ چارجز کم نہیں کیے جا سکتے۔
کراچی کے تاجر زبیر موتی والا نے بتایا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج اور گردشی قرضے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی کے بل زیادہ رہتے ہیں، اور کے-الیکٹرک کے خلاف نیپرا کے آرڈرز عدالت میں روک دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ حکم امتناعی کے-الیکٹرک کے پاس ہے، جس سے انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 42 ہزار میگاواٹ بجلی کے سسٹم میں سے 28 ہزار فعال ہیں، اور 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے لیے بھی صارفین سے پیسے لیے جا رہے ہیں۔
سینیٹر عبدالقادر اور شارق جمال نے مطالبہ کیا کہ عوام سے غیر فعال بجلی کے لیے وصولی کی تحقیقات کی جائیں، جرمانے عوام پر نہ ڈالے جائیں، اور نیپرا عوامی عدالتوں کے ذریعے شفاف عمل یقینی بنائے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے ہدایت دی کہ کراچی میں دو سال سے زیرالتوا لوڈشیڈنگ سروے رپورٹ دو دن میں کمیٹی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو فراہم کی جائے۔
یہ اجلاس بجلی کی قیمتوں، کے-الیکٹرک کی کارکردگی اور عوامی تحفظ کے مسائل پر روشنی ڈالنے والا ایک اہم موقع ثابت ہوا، جس میں کمیٹی نے آئندہ کارروائی اور شفافیت کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عندیہ دیا۔
سینیٹ اجلاس میں انکشاف: عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے گئے








