اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا کرنا پڑگیا، پیپلز پارٹی نے حکومت پر صدر مملکت کے دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے قومی اسمبلی اجلاس سے واک اؤٹ کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت ہوا، جس میں سابق رکن قومی اسمبلی میاں منظور احمد وٹو سمیت دیگر فوت ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر ایوان میں موقف اختیار کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے پروسس شروع ہونے کو وہ خوش آئند سمجھتے ہیں۔
انہوں نے ایک صدارتی آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کہ جب صدر کی منظوری اور دستخطوں کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، اس آئینی خلاف ورزی پر پاکستان پیپلز پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کرتی ہے۔
سید نوید احمد قمر کے یہ کہنے کے ساتھ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پی پی پی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ لوگوں سے چیک کرلیتے ہیں کہ اس پر کیا صورتحال ہے یہ کیسے ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جعلی نوٹی فکیشن وائرل ہورہا ہے جس کو دیکھ لیتے ہیں۔









