بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’اسمائلی ایموجی‘ کس نے ایجاد کی؟

یہ ممکن ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کبھی پنسل اٹھائی ہو، سب سے پہلے ایک مسکراہٹ والا چہرہ بنانے کی کوشش کی ہو۔ دو چھوٹے نقطے، ایک ہلکی سی منحنی لکیر اور ایک گول دائرہ۔ یہ سادہ سا خاکہ کسی بھی بچے کے ہاتھ میں کاغذ کے ساتھ پہلی تخلیقی کوشش کے طور پر نمودار ہوتا ہے۔

مسکراہٹ کی اس سادہ مگر خوشگوار علامت نے انسانی ذہن میں اپنی جگہ اتنی گہری بنا لی ہے کہ اس کا وجود ہمیشہ سے محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ امن وسکون اور دل کی مسرت کے لیے یہ مسکراہٹ ہر زمانے اور ثقافت میں خوشی اور مثبت توانائی کی علامت کے طور پر برقرار رہی ہے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ علامت مختلف روپ میں سامنے آئی۔

1982 میں کارنیگی میلون یونیورسٹی کے اسکاٹ فہلمان نے سب سے پہلے ایموٹیکون ”:-)“ استعمال کیا، اور اس کے بعد یہ سمبل ایسڈ ہاؤس تحریک اور جدید ایپلیکیشنز اور ایموجیز میں اپنی جگہ بنانے لگا۔

تاہم، انسانی تاریخ میں مسکراہٹ کی ابتدائی جھلک صدیوں پہلے بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ترکی میں 1700 قبل مسیح کے دوران، نکولو مارکیٹی اور ان کی ٹیم نے کرکامش علاقے میں ایک مٹی کے برتن پر دو نقطوں اور ایک منحنی لکیر دیکھی، جو آج گازیانٹیپ میوزیم آف آرکیالوجی میں محفوظ ہے اور مسکراہٹ کی سب سے قدیم مثال سمجھی جاتی ہے۔

سترھویں صدی میں سلوواکیہ کے شہر ٹرینچن کے نوٹری جان لاڈیسلائیڈس نے مالی دستاویزات کی جانچ پر سونے کا چھوٹا سا مسکراہٹ والا نشان لگایا۔

لیکن یہ بیسویں صدی تھی جس نے مسکراہٹ کو عالمی سطح پر مشہور کیا۔ 1900 میں ڈینش شاعر جوہانس وی جینسن اور 1919 میں موسیقار اروین شولہوف کے اسکورز میں مسکراہٹ کے ابتدائی خاکے ملے، اور 1930 کی دہائی میں یہ لوگو یا پوسٹرز کی شکل میں پاپ کلچرمیں نمودار ہونا شروع ہوا۔

آج کے مسکراہٹ والے چہرے کی اصل تخلیق 1963 میں امریکی ریاست میساچوسیٹس کی اسٹیٹ میوچل لائف ایشورنس کمپنی کے لیے گرافک ڈیزائنر ہاروے بال نے کی۔

کمپنی کے ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لیے ہاروی نے محض دس منٹ میں ایک خوشگوار پیلا دائرہ اور دو نقطوں والی مسکراہٹ بنا دی۔

ابتدائی طور پر 100 بٹن پنز بنائی گئیں، جو جلد ہی 50 ملین تک پہنچ گئیں۔ اگرچہ فرانکلن لوفرانی نے بعد میں اپنی مسکراہٹ کو ٹریڈ مارک کیا، ہاروی بال کا مقصد کبھی پیسہ کمانا نہیں تھا۔ انہوں نے 1998 میں بتایا، ”مجھے کوئی کمی یا فرق نہیں پڑتا، اگر میں دنیا کو تھوڑی خوشی دے سکوں، تو بس یہی کافی ہے۔“


مسکراہٹ والا چہرہ آج ہر عمر، ثقافت اور دور میں اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ چاہے وہ ایپلیکیشنز میں ایموجیز کی شکل ہو یا پوسٹرز اور ملبوسات پر چھپی علامت، یہ ہمیشہ خوشی اور انسانی مثبت توانائی کی علامت کے طور پر برقرار رہے گا۔

اگر آپ اپنی تخلیقی کوشش سے ہاروی بال کا اصل مسکراہٹ والا چہرہ بنانا چاہیں تو یاد رکھیں، آنکھیں ہلکی بیضوی شکل کی ہوں، دائیں آنکھ تھوڑی بڑی، ہلکا سا پیلا رنگ اور مسکراہٹ ایک نرمی سے مڑتی ہوئی خوشگوار قوس کی شکل میں ہو، تھوڑی سی کناروں پر لکیریں بھی شامل ہوں، بس یہ چھوٹے چھوٹے جزو ہی دنیا کے سب سے مشہور چہرے کو مکمل کرتے ہیں۔