بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شائننگ انڈیا یا اعدادی فریب؟ بھارت میں ریاستی بیانیہ حقیقت مسخ کرنے لگا

نیویارک (ویب ڈیسک)بھارت میں نریندر مودی کی حکومت پر حقائق کے برعکس مبالغہ آمیز بیانیے اور مفروضوں پر مبنی اعداد و شمار کے استعمال کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ معاشی، انتخابی اور جنگ جیسے حساس شعبوں میں شفافیت کمزور ہونے لگی ہے جبکہ عوام کو کامیابیوں کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نیویارک ریویو آف بکس میں شائع ہونے والے معروف تجزیہ کار کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مضمون Hype and Fraud in India میں بھارت کے موجودہ حکومتی ماڈل پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مضمون کے مطابق مودی حکومت کا “شائننگ انڈیا” کا بیانیہ مبالغہ، دھوکے اور اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند پالیسیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

مضمون میں جنگ سے متعلق پہلو کو سب سے زیادہ چونکا دینے والا قرار دیا گیا ہے۔ کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مطابق آپریشن سندور میں بھارت کی مبینہ “فتح” محض ایک جھوٹا دعویٰ تھی۔ نیویارک ریویو کے مطابق گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران متعدد بھارتی طیارے گرائے گئے، جسے ماہرین پاکستان کی حالیہ دہائیوں کی “سب سے بڑی علامتی کامیابی” قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود بھارتی عوام کو ایک اسٹیج شدہ شو کے ذریعے کامیابی بیچی گئی اور جنگ کو ایک تھیٹر بنا کر پیش کیا گیا۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست نے ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار اور جمہوریت جیسے بنیادی معاملات میں زمینی حقائق کے بجائے بیانیوں اور اعداد و شمار کو مرکزی حیثیت دے دی ہے۔ معاشی پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود بھارت میں بے روزگاری، عدم مساوات اور غیر رسمی معیشت جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔

انتخابی عمل سے متعلق بھی سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ نیویارک ریویو کے مطابق بھارت میں شفافیت اور احتساب کے ذرائع اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے۔ کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مطابق 2014 کے بعد بھارتی حکومت نے غربت اور بے روزگاری کے پیمانے تبدیل کر کے آزاد ڈیٹا اور حقائق جانچنے والے اداروں کو کمزور کیا۔

مضمون میں اپریل 2025 کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو عالمی بینک سے منسوب کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ بھارت میں انتہائی غربت 2011-12 کے 16.2 فیصد سے کم ہو کر 2022-23 میں 2.3 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم نیویارک ریویو کے مطابق پروفیسر گورودت سمیت متعدد آزاد محققین نے اس طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور متبادل مطالعات میں کہیں زیادہ غربت سامنے آئی۔

کشمیر کی آئینی خودمختاری کے خاتمے اور شہریت کے قوانین میں مذہبی جھکاؤ کو بھی مسلمانوں کو قومی دھارے سے باہر دھکیلنے کی منظم کوشش قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروِند سبرامنیم کے مطابق ڈیٹا چھپانے کے باعث معیشت کی اصل تصویر غائب ہو چکی ہے۔

دی اکانومسٹ کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اب “جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست” بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ریاست غربت، روزگار، انتخابات اور اقلیتوں کے معاملات میں جھوٹ بول سکتی ہے، وہ جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولنے سے گریز نہیں کرے گی۔ یہ مضمون کسی ایک پالیسی نہیں بلکہ پورے بھارتی نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔