بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث افغان شرپسند خطے اور دنیا کیلئے سنگین خطرہ بن گئے

انقرہ (ویب ڈیسک)افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند اور شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغان شرپسند نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر وبالِ جان بنتے جا رہے ہیں۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک پہلے ہی افغان شہریوں پر ویزہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں جبکہ پاکستان، ایران، امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے لاکھوں غیرقانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

افغان میڈیا ادارے خامہ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق ترکیہ نے بھی رہائشی دستاویزات نہ ہونے پر 18 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی ترکیہ میں 42 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق افغان شرپسندوں کی امریکہ اور دیگر ممالک سے بے دخلی کی بنیادی وجہ ان کے انتہا پسند نظریات اور شدت پسند کارروائیاں ہیں۔ گزشتہ سال واشنگٹن میں ایک افغان دہشتگرد کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے مرد اور خاتون اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد افغان شہریوں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔

اسی طرح جرمنی کے شہر میونخ میں بھی گزشتہ سال ایک افغان شرپسند نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ یورپ میں افغان انتہا پسندوں سے جڑے خطرات کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ایران نے بھی دراندازی کی کوشش کرنے والے متعدد افغان شرپسندوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور انتہا پسند سرگرمیوں کے باعث ایران نے لاکھوں افغان شہریوں کو ملک بدر کیا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ بن چکا ہے اور وہاں سے ہمسایہ اور دیگر ممالک میں دہشتگرد کارروائیوں کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک سے غیرقانونی افغان باشندوں کی گرفتاریوں اور ملک بدری کے اقدامات کو عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید قرار دیا جا رہا ہے۔