بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کا جلد نمٹانے کا عندیہ

ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کا جلد نمٹانے کا عندیہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے کیس کے آخری مراحل میں داخل ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے فریقین کو پانچ دن کے اندر تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت انہوں نےریمارکس دیےکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کیس میں تفتیش کا عمل کافی سست رہا ہے،تاہم عدالت کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتی کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔

جسٹس عامرفاروق نےکہا کہ تحریری معروضات موصول ہونے کے بعد عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔ دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نےعدالت کوآگاہ کیاکہ ابتدائی طور پرکینیا کی حکومت نےتفتیش میں تعاون سےانکارکردیاتھا،تاہم گزشتہ سال ستمبرمیں پاکستان اورکینیا کےدرمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کا معاہدہ طے پایا۔جیسے ہی کینیا کی حکومت مزید تفتیش کے لیے آمادگی ظاہر کرےگی،پاکستانی تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجی جائے گی۔

جسٹس عامرفاروق نےاستفسارکیاکہ دونوں ممالک کےدرمیان معاہدے کےبعد کیس میں مزید کیا پیشرفت ممکن ہے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےبتایا کہ چالان میں دو ملزمان کو نامزد کیاجاچکا ہے جبکہ کینیا میں موجود ملزمان کے بلیک وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمزید بتایا کہ وزیراعظم نےخودکینیا کےصدر سےفون پر رابطہ کیا ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے،سماعت کے دوران عمران فاروق قتل کیس کا بھی حوالہ دیا گیا۔

جسٹس عامر فاروق نےکہا کہ عمران فاروق کا قتل انگلینڈ میں ہوا تھا اور اس کیس میں پاکستان اور برطانیہ کی پولیس نےملکرتفتیش کی تھی۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمؤقف اختیارکیا کہ عمران فاروق اورارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت تحریری معروضات جمع ہونے تک ملتوی کر دی۔