لاہور:پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔
کمرہ عدالت میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خان صاحب نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے، ہم تو جیلوں میں پڑے ہیں ہمارے پاس انفارمیشن کم آتی ہے، محمود خان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔
صحافی کے سوال کیا آپ فواد چوہدری کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ساتھ دیں گے؟ پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتا مگر یہ سوچنا ہوگا کہ آخر اسکا حل کیا ہے؟۔
صحافی کے سول کیا فواد چوہدری آپ کی مرضی سے آپکو ملنے آئے تھے؟ کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فواد چوہدری اور میں ایک پارٹی میں رہے ہیں، میں اسپتال میں تھا تو وہ عیادت کے لیے آگئے، اب گھر آئے مہمان کو کیا کہوں کہ کیوں ملنے آئے ہو؟۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے کہ انکی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، افغانستان کی خوشحالی کا راستہ پاکستان سے ہے، افغانستان اگر استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہئے، ایران کے بارڈر پر فی الحال صورتحال کنٹرول میں ہے، ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا اللہ نے ہمیں عزت دی مگر ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔









