بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بینکنگ سسٹم: روایتی سے اسلامی منتقلی، چیلنجز اور امکانات

پاکستان میں بینکاری نظام کو سود پر مبنی روایتی ڈھانچے سے شریعت کے مطابق اسلامی ماڈل میں تبدیل کرنا اب محض نظری بحث نہیں رہا بلکہ ایک آئینی، عدالتی اور عوامی مطالبہ بن چکا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے کے تحت دسمبر 2027 تک سود کے خاتمے کی ہدایت کے بعد اگرچہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم مکمل اسلامی بینکاری کی راہ اب بھی پیچیدہ اور کٹھن ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے اثاثے مجموعی بینکنگ انڈسٹری کے 20 فیصد سے زائد ہو چکے ہیں، مگر یہ ترقی زیادہ تر دوہرے بینکاری نظام تک محدود رہی۔ مکمل تبدیلی کے لیے صرف اسلامی شاخوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ مالیاتی، ریگولیٹری اور قانونی ڈھانچے کی جامع تنظیم نو ناگزیر ہے۔ اس وقت سب سے بڑی کمی ایک واضح اور متفقہ نفاذی روڈ میپ کی ہے، جس کے بغیر تاخیر اور جزوی عملدرآمد کے خدشات برقرار رہیں گے۔
حکومتی قرضوں کا موجودہ سودی نظام اسلامی بینکاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سکوک جیسے شریعت کے مطابق ذرائع کو نہ صرف وسعت دینا ہوگی بلکہ انہیں متنوع مالیاتی ڈھانچوں تک پھیلانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکوں کو لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے مؤثر اور معیاری ذرائع کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے مرکزی بینک کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
قانونی اصلاحات، شریعہ گورننس میں یکسانیت، روایتی بینکوں کی مرحلہ وار تبدیلی، انسانی سرمائے کی تربیت اور عوامی آگاہی اس عمل کے اہم ستون ہیں۔ یہ تبدیلی صرف مذہبی نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اصلاح ہے، جس کا مقصد مالیاتی شمولیت، استحکام اور اخلاقی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اگر حکومت واضح، قابلِ عمل اور قانونی حمایت یافتہ حکمت عملی کے ساتھ بروقت اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان نہ صرف 2027 کی ڈیڈ لائن حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی اسلامی مالیات میں ایک مؤثر کردار کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔