بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان رجیم میں افغان شرپسند وسطی ایشیا کے بعد یورپ کے لیے بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ

میونخ(انٹرنیشنل ڈیسک) افغان طالبان کے زیرِاثر پروان چڑھنے والی انتہا پسندانہ سوچ اب علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح پر بےگناہ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور عرب نیوز کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں دانستہ طور پر ہجوم پر گاڑی چڑھانے والے افغان شہری کے خلاف باقاعدہ عدالتی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے جان بوجھ کر ہجوم کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کی بیٹی جاں بحق ہوئیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ افغان ملزم پر اس سے قبل بھی دو قتل اور 44 قتل کی کوششوں کے الزامات عائد ہیں۔

واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان مہاجرین کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کیا، جبکہ سیکیورٹی اداروں کو نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے ایک ماہ قبل جرمنی کے شہر آشفن برگ میں ایک اور افغان شہری نے چاقو سے حملہ کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ برس واشنگٹن میں ایک افغان دہشت گرد کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے ایک مرد اور ایک خاتون اہلکار جان سے گئے تھے۔

دوسری جانب پاکستان، ایران، امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد کی گرفتاری اور ملک بدری کا عمل جاری ہے۔

ماہرینِ سلامتی کے مطابق افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے ہمسایہ ممالک سمیت دنیا کے دیگر حصوں کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انتہا پسندی کے اس بڑھتے رجحان کے تدارک کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔