اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ اور اہلِ خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کے مجوزہ بل کی منظوری دے دی، اثاثوں کی اشاعت میں عوامی مفاد، سیکیورٹی اور اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کی منظوری کو شرط بنایا گیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے چیئرمین رانا ارادت شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ اور اہلِ خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق مجوزہ بل پر غور کیا گیا۔بل میں تجویز ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اور سینٹ کے چیئرمین کی منظوری لازمی ہوگی تاکہ عوامی مفاد اور گڈ گورننس کے ساتھ فرد کی نجی زندگی اور سیکیورٹی کا تحفظ بھی برقرار رہے۔
مجوزہ ترمیم میں الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ کے سیکشن ایک سو اڑتیس میں تبدیلی کر کے سرکاری گزٹ میں اثاثوں اور واجبات کی اشاعت کی شق شامل کی گئی ہے، جبکہ ترمیم کے تحت اثاثوں کی معلومات کے دائرہ کار کا تعین اور توازن قائم کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف دیا کہ اصل سیکشن ایک سو اڑتیس میں اشاعت لازمی ہے اور امیدوار پہلے ہی فارم بی کے تحت اثاثے جمع کراتے ہیں، تاہم وزارت پارلیمانی امور نے اس موقف کی توثیق کی۔اجلاس میں وزارت قانون کے نمائندے نے بل کی مخالفت نہیں کی جبکہ کمیٹی کے ارکان نے بل کی حمایت کی۔ قائمہ کمیٹی نے شازیہ مری کے پیش کردہ بل کی منظوری دے دی، جس سے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔









