بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان رجیم میں قحط کا راج، لاکھوں افغان بھوک کے دہانے پر

افغانستان میں طالبان رجیم کے زیرِ سایہ معاشی اور غذائی بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افغان شہری بھوک، فاقہ کشی اور شدید غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نااہل طالبان رجیم کی ناقص اور ظالمانہ پالیسیوں کے باعث ملک ایک بڑے انسانی المیے کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

افغان جریدے ”ہشت صبح”کے مطابق طالبان رجیم میں لاکھوں افراد شدید بھوک اور جان لیوا مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غذائی بحران بے قابو ہو چکا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے بتایا کہ افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں غذائی بحران ریکارڈ سطح پر رہا، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ہشت صبح کے مطابق مختلف ممالک سے ملک بدر کیے گئے افغان مہاجرین کی واپسی سے غربت اور غذائی بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث عالمی امداد کی معطلی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افغان شدید بھوک اور قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

جریدے کے مطابق طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں، انتہاپسندانہ اقدامات اور دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی نے افغانستان کو معاشی کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں عوام بھوک اور بے بسی کی زندہ تصویر بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ قابض افغان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کر کے عوام کی فلاح و بہبود، روزگار اور غذائی تحفظ کو اپنی ترجیح بنائے، بصورت دیگر افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔