بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: رکن ممالک کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ امید ظاہر کی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ اور تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں گے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ اس کے ایک روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر بھی اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قازقستان، پیراگوئے اور ازبکستان نے بھی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔
گزشتہ روز پاکستان سمیت کئی مسلم اور علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق بورڈ آف پیس کی دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار میں امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تاہم پاکستان کے اس فیصلے پر ملک کے اندر شدید سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی موجودگی میں کسی امن منصوبے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بورڈ آف پیس کے اختیارات کیا ہیں اور اس میں شامل ممالک کا کردار کس نوعیت کا ہو گا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی شمولیت کا بنیادی مقصد مکمل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی ازسرِنو تعمیر ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان اس بورڈ میں مستقل رکن کے طور پر شامل ہوا ہے یا محدود مدت (تین سال) کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق، ہر رکن ملک کی رکنیت کی مدت چیئرمین (صدر ٹرمپ) کی صوابدید پر ہو گی، اور وہ چاہیں تو اس کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔ البتہ چارٹر میں یہ بھی درج ہے کہ جو ممالک بورڈ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گے، ان پر تین سالہ مدت کی شرط لاگو نہیں ہو گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چارٹر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر فراہم کرنے والے ممالک اور دیگر رکن ممالک کے اختیارات یا اثر و رسوخ میں کیا فرق ہو گا۔
بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے سوالات بھیجے ہیں، تاہم تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک اہم شخصیت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں اور پاکستان عالمی برادری کی طرح اسی سطح پر اس عمل میں شریک ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی شمولیت کو ایک سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات، اختیارات اور نتائج آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکیں گے۔