امریکی وفاقی امیگریشن حکام نے ایک مشتبہ شخص کو امریکا سے ڈی پورٹ کر دیا، جو 2022 میں اربوں روپے مالیت کے قیمتی زیورات کی چوری کے کیس میں ملوث تھا۔ اس کیس میں چوری شدہ مالیت تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیسن نیلون پر الزام تھا کہ اس نے 2022 میں برِنکس سیکیورٹی ٹرک سے ہیرے، زمرد، سونا، لال موتی اور مہنگے ڈیزائنر گھڑیاں چرا کر لے گئے تھے۔ یہ کیس امریکا کی تاریخ میں سب سے بڑے زیورات کی چوری کے کیسز میں شمار ہوتا ہے۔
جیسن نیلون سمیت سات افراد پر بینالریاستی اور غیر ملکی شپمنٹ سے چوری کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے، اور اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے تو انہیں 15 سال تک قید ہو سکتی تھی۔
تاہم دسمبر 2025 میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے جیسن کو رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کی اجازت دی۔ امریکی قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص خود رضاکارانہ طور پر ڈی پورٹیشن کے لیے پیش ہوتا ہے تو اسے روانہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی پراسیکیوٹرز کو اس اقدام کا پہلے علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے مقدمے کو آگے بڑھانے میں قانونی مشکلات سامنے آئیں۔ پراسیکیوٹرز نے عدالت میں استدلال کیا کہ جیسن کے خلاف مقدمہ مؤخر ہونا چاہیے تاکہ اسے مستقبل میں واپس لا کر مقدمہ دوبارہ چلایا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے اہم مقدمے میں مرکزی ملزم کا ڈی پورٹ ہونا غیر معمولی اور غیر متوقع فیصلہ ہے۔ اس سے نہ صرف انصاف میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ متاثرین اور شواہد کی حفاظت بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے کیس کی قانونی کارروائی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
اربوں کی چوری کے ملزم امریکی قانون کی خامی کی وجہ سے فرار ہونے میں کامیاب








