بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طالبان رجیم کےنام نہاد تعزیری سزا سے متعلق دستورکوافغان عوام سمیت دنیا بھر نے مسترد کردیا

کابل(نیوز ڈیسک) افغان طالبان رجیم کی جانب سے تعزیری سزاؤں سے متعلق جاری کردہ نئے ضابطہ قانون کو افغان عوام سمیت دنیا بھر میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ انصاف کے قیام کے بجائے ظلم، خوف اور شہری آزادیوں کو دبانے کا ایک ہتھیار ہے۔

افغان طالبان کے اس قانون کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اقوام متحدہ میں افغانستان کے لیے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس ضابطہ قانون کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے اور یہ انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔

افغان قومی سلامتی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے سزاؤں سے متعلق اس ضابطے کو مذہب کا سیاسی استعمال قرار دیتے ہوئے اسے سخت گیر اور غیر انسانی اقدام کہا ہے۔ آسٹریا میں افغانستان کی سفیر منیزہ بختری کے مطابق نیا ضابطہ ایک آمرانہ نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں قانون کو انصاف کے بجائے سماجی کنٹرول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ انسانی وقار، شہری مساوات اور قانونی انصاف کی بنیادی اصولوں کو پامال کرتا ہے۔ افغانستان ویمنز جسٹس موومنٹ کے مطابق یہ قانون افغانستان میں ’’قانون‘‘ کے نام پر تشدد اور امتیاز کو سرکاری طور پر جائز قرار دیتا ہے۔

افغان شہریوں نے بھی سوشل میڈیا پر طالبان کے اس ضابطے کی بے رحم سماجی درجہ بندی اور ظالمانہ امتیازی سلوک کو بے نقاب کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان رجیم کے دور میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سزاؤں سے متعلق یہ ضابطہ خوف، جبر اور اطاعت کے ذریعے معاشرے کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف انسانی حقوق متاثر ہوں گے بلکہ افغانستان کا معاشرتی اور سیاسی ڈھانچہ بھی شدید کمزور ہو جائے گا۔