وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گوادر تیزی سے پاکستان کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے والا ایک اسٹریٹجک راستہ بن رہا ہے اور حکومت اسے جدید بندرگاہی اور ساحلی شہر میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
گوادر میں منعقدہ سیمینار اور ایگزیبیشن ’’گوادر جدید ساحلی شہر 2026‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے گوادر بندرگاہ کی صنعتی اور تجارتی ترقی کو قومی ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔
سیمینار میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جہاں پالیسی سازی، سرمایہ کاری کے مواقع، سکیورٹی اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ گوادر علاقائی تجارت، بندرگاہی معیشت اور عالمی رابطہ کاری کا ایک ابھرتا ہوا اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے، جو پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
ایم ڈی پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آفتاب الرحمٰن رانا نے گوادر کے سیاحتی امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یہ شہر پاکستان کی ٹورازم انڈسٹری کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد جمیل احمد کے مطابق گوادر پورٹ میں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس حب بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے گوادر کے صنعتی امکانات اور اسپیشل اکنامک زونز کو ملکی معیشت کے لیے کلیدی قرار دیا، جبکہ نسٹ یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مقامی آبادی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار کے شرکاء نے گوادر سیمینار 2026 کو پاکستان کی قومی معاشی ترقی اور مستقبل کی اقتصادی سمت کے تعین کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
گوادر علاقائی تجارت اور عالمی رابطہ کاری کا اسٹریٹجک مرکز بن رہا ہے، احسن اقبال








