بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ایس ایل 11 میں اہم کھلاڑی اپنی فرنچائزز سے بچھڑنے والے ہیں

اسلام آباد: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں فرنچائزز کے لیے اہم کھلاڑیوں کی ریٹینشن کی فہرست حتمی شکل اختیار کر گئی ہے، جس کے بعد کئی اسٹارز اپنی موجودہ ٹیموں کو چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔ پی سی بی نے فہرست کو حتمی قرار دے دیا ہے اور کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کو شاداب خان برقرار رکھنے کے لیے نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا، محمد نواز اور عماد وسیم میں سے کئی کھلاڑیوں کو چھوڑنا ہوگا۔ لاہور قلندرز کے لیے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو ساتھ رکھنے کے لیے فخر زمان اور حارث روف کی خدمات سے دستبرداری ضروری ہوگی۔ پشاور زلمی کو بابر اعظم یا صائم ایوب میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز صرف محمد عامر، فہیم اشرف یا ابرار احمد میں سے ایک کو ساتھ رکھ سکے گی۔ کراچی کنگز میں صرف حسن علی اور ملتان سلطانز میں محمد رضوان پلاٹینیم کیٹیگری میں برقرار رہ سکیں گے۔
پی ایس ایل 11 میں دو نئی فرنچائزز، حیدرآباد اور سیالکوٹ، حصہ لیں گی، اور انہیں اہم کھلاڑیوں کے انتخاب کا موقع دینے کے لیے پی سی بی نے قوائد میں تبدیلی کی ہے۔ ہر فرنچائز اب صرف پچھلے سیزن کے 4 کھلاڑی برقرار رکھ سکے گی، جب کہ پہلے یہ تعداد 8 تھی۔ پلاٹینیم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور کیٹیگری سے ہر ٹیم صرف ایک کھلاڑی ریٹین کر سکے گی۔ اس نئے نظام کے تحت ہر ٹیم کو کئی اہم کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہونا پڑے گا۔
ٹیم وار تفصیلات: اسلام آباد یونائیٹڈ: شاداب خان، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا، محمد نواز اور عماد وسیم پلاٹینیم میں شامل، جن میں سے صرف ایک برقرار رہ سکے گا۔ اعظم خان، حیدر علی، سلمان ارشاد اور رومان رئیس گولڈ، محمد فائق اور حنین شاہ سلور، جبکہ سعد مسعود، محمد شہزاد اور غازی غوری ایمرجنگ کیٹیگری میں ہیں۔
کراچی کنگز: حسن علی پلاٹینیم، عباس آفریدی اور شان مسعود ڈائمنڈ، خوشدل شاہ، عامر جمال، عرفان خان نیازی، میر حمزہ، زاہد محمود، عمیر بن یوسف، شاہنواز دھانی اور عرفان منہاس گولڈ، مرزا معمون امتیاز سلور، جبکہ ریاض اللہ، فواد علی اور سعد بیگ ایمرجنگ میں شامل ہیں۔
لاہور قلندرز: شاہین آفریدی، فخر زمان اور حارث روف پلاٹینیم، عبداللہ شفیق اور محمد سلمان مرزا ڈائمنڈ، زمان خان، جہانداد خان، آصف آفریدی اور آصف علی گولڈ، محمد اخلاق، محمد نعیم اور محمد عزب سلور، مومن قمر ایمرجنگ۔
پشاور زلمی: بابر اعظم اور صائم ایوب میں سے کسی ایک کو پلاٹینیم میں برقرار رکھنا ہوگا، محمد حارث، محمد علی، عبدالصمد، حسین طلعت، احمد دانیال اور احسان اللہ گولڈ، سفیان مقیم، عارف یعقوب، مہران ممتاز سلور، عبداللہ فضل، علی رضا اور معاذ صداقت ایمرجنگ۔
ملتان سلطانز: محمد رضوان پلاٹینیم، اسامہ میر، افتخار احمد اور عثمان خان ڈائمنڈ، کامران غلام، محمد حسنین، فیصل اکرم، عاکف جاوید، طیب طاہر گولڈ، یاسر خان، عامر برکی، محمد جنید، ہمایوں الطاف، علی عمران، جہانزیب سلطان اور عبید شاہ سلور، شاہد عزیز اور محمد ذوالفقار ایمرجنگ۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: محمد عامر، فہیم اشرف اور ابرار احمد پلاٹینیم، سعود شکیل، محمد وسیم جونیئر، عثمان طارق ڈائمنڈ، خرم شہزاد، حسیب اللہ خان، خواجہ محمد نافع، حسن نواز، دانش عزیز گولڈ، علی ماجد سلور، محمد ذیشان اور شامل حسین ایمرجنگ۔
اس نئے ریٹینشن سسٹم کے ساتھ، پی ایس ایل فرنچائزز کو اپنی ٹیموں میں توازن پیدا کرنے اور نئے اسٹار کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے حکمت عملی بنانے کا چیلنج درپیش ہے۔