نیویارک:(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے نئی اور مؤثر کوششوں پر زور دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں، انسانی امداد میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بے ضابطہ طاقت عالمی نظام کو مزید غیر مستحکم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی ادارہ جاتی ڈھانچہ پرانا ہو چکا ہے اور بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
انتونیو گوتریس نے مضبوط کثیر الجہتی اداروں، مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق اور ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈ کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موسمیاتی انصاف، مالیاتی اصلاحات اور پائیدار امن کے عزم کا اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل پر اثر انداز ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت امریکہ کے پاس ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے اپنے اتحادی پر دباؤ ڈالنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو دباؤ ڈالنا ہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک جس کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی سب سے زیادہ طاقت ہے وہ امریکہ ہے، اسی لیے یہ اہم تھا کہ امریکہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا۔








