سابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی نے ایران کے خلاف جاری دھمکیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال عراق جنگ سے قبل کی جیسی ہے، جب غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے جنگ کی راہ ہموار کی گئی تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق البرادعی نے کہا کہ آج انسانی زندگی اور خطے میں تباہی کو سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا جا رہا، اور ہم ماضی سے سبق سیکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف یک طرفہ دھمکیاں ایسے وقت جاری کی جا رہی ہیں جب ایران کی جانب سے کوئی واضح یا فوری خطرہ موجود نہیں ہے۔
ڈاکٹر البرادعی نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں اور اس طرح کی کارروائیاں خطے میں غیر ضروری کشیدگی پیدا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کو ایران کے معاملے میں احتیاط، مکالمہ اور قانونی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ تاریخی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکے۔
ایران کے خلاف دھمکیاں عراق جنگ جیسی ہیں، سابق IAEA سربراہ کا اظہار تشویش







